تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 693 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 693

میں جو بھی سچا واقعہ ہوتا گورنمنٹ اس کی تصدیق کر دیتی اور اگر دونوں کی باتیں غلط ہوتیں تو گورنٹ دونو کی تردید کر دیتی اس طریق سے یقیناً افواہیں اپنا برا اثر نہ پھیلا سکتیں۔جمہوری حکومتوں کا یہ طریق ہے کہ وہ ایسی خبروں کو نہیں روکتیں بلکہ جو خبر غلط ہوتی ہے اس کی تہ دیدہ کر دیتی ہیں بعد اصل مصلحت بھی اس بات میں ہوتی ہے کہ گورنمنٹ اختبارہ والوں سے کہہ دے کہ جو مرضی ہے شائع کہ ولیکن اگر جھوٹی خبر شائع کی تو ہم تمہیں سزا دیں گے۔۔۔سزا کے لئے یہ ضروری نہیں کہ چھ ماہ یا سال دو سال کی تیسر ی ہو کہ قید کی سزا دینے میں یہ نقص ہوتا ہے کہ اس طرح عمر جگتے سے ایک شخص قوم کا لیڈر اور سردار بن جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے قوم کی خاطر قید کائی میرے نزدیک ایسے اخبار کیلئے صرف یہی سزا کا فی ہے کہ اس کے متعلق عدالت یہ فیصلہ کرے کہ اس نے فلاں جھوٹ بولا۔اور پھر اخبار والوں کو مجبور کیا جائے کہ تم اپنے اخبار میں یہ شائع کرو کہ میں نے فلاں معاملہ میں جھوٹ بولا تھا۔اصل خبر یہ تھی۔پس میرے نزدیک اخبار است کو پورا موقع دینا چاہئے کہ وہ خبروں کو شائع کریں۔جب لوگوں کے پاس ساری تری پہنچ جائیگی تو تجھوٹی افواہیں فساد نہیں پھیلا سکیں گی یہ سے قادیان کے غیر احمدیوں اور غیرمسلموں حضرت علی موعود نے اپنے با برکت زمانہ کی حفاظت کا عہد خلافت میں ہمیشہ کوشش کی کہ قادیان میں امن قائم رہے اور دشمنوں کی اشتعال انگریوں او فتہ سامانیوں کے باوجود آپ کی یہ کوششیں ہمیشہ کامیاب رہیں اب جبکہ جلد ہی انگریز جار ہے تھے اور ملک کی باگ ڈور ملکی باشندوں کو سپر ہونے والی تھی فرقہ دارانہ تلخیوں نے پورے ملک کی فضا کو مکہ رکھ دیا تھا۔ظاہر ہے کہ قادیان اور اس کا ماحول اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ۲۳ ہجرت رمئی رات سوار کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ قادیان کے غیر احمدی ، سکھ اور ہندو ہماری امانتیں ہیں ہم اپنے عزیزوں سے بڑھ کر ان کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ فرمایا " عد یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیان کے اس کی ذمہ داری در حقیقت مجھ پر مائل ہوتی ہے کیونکہ قادیان کی ه الفضل ۲۶ اجرت /مئی ۱۳۲۶ میش 196