تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 686 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 686

اس کام کی تیاری میں منہمک ہو گئے اور دن رات کی لگاتار محنت کے بعد ۱۹۴۹ میں ترجمۃ القرآن کی دوسری جلد کا پہلا حصہ مرتب کر لیا جس میں سورہ یونس سے سورہ کہفتے تک تفسیر آگئی ہے ان ایام میں ترجمہ القرآن انگریز کمی کے متعلق حضرت ملک صاحب کو چار قسم کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا پڑتا تھا۔(۱) کتاب کی ترتیب و تدوین جس میں بے انتہا محنت کرنی پڑتی تھی۔دس پروف ریڈنگ جو کئی کئی مرتبہ بڑی احتیاط کے ساتھ کرنی پڑتی تھی۔رس طباعت کی نگرانی جو بڑی ہی بھاگ دوڑ اور مصیبت کا کام تھا۔ولی طباعت اور تیاری کے بعد قرآن کریم کی فروخت اور تقسیم کی نگرانی ہو بڑے جھیلے کا تھا ظاہر ہے کہ اکیلے ملک صاحب کے لئے ان چاروں کا مول کی سرانجام دہی کس قدر دردسری کا باعث تھی لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جناب ملک صاحب نے ان ایام میں بڑے ہی استقلال اور مستعد می اور محنت کے ساتھ تمام کا سول کو سر انجام دیا اور قطعا شکایت نہیں کی۔اگر چہ اس تمام عرصہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلسلہ کے بہت سے متفرق کا مول میں سخت مشغول رہے تا ہم نہایت عدیم الفرصتی کے با وجود بھی ترجمہ انگریزی کی نظر ثانی کے کام میں برابر جناب ملک صاحب کے شریک رہے۔مگر جبکہ جنوری 19 میں حضرت میاں صاحب رتن باغ سے مستقل طور پر ربوہ تشریف لے گئے تو آخری مراحل پر حضرت مولوی محمد دین حنا ناظر تعلیم نظر ثانی کے کام میں حضرت ملک صاحب کی مدد فرماتے رہے لیکن جب وہ بھی سلسلہ کی ضرورت اور سلسلہ کے تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لئے ربوہ چلے گئے تو تنہا ملک صاحب نے سارے کام سرانجام دئے۔ملک صاحب نے اکیلے رہ جانے پر بھی ہمت نہ ہاری اور ناموشی کے ساتھ پر کام میں مصروف رہے۔اللہ تعالے نے ان کی مدد کی اور مہتم بالشان کام آہستگی کے ساتھ آگئے پڑھتا رہا۔یہاں تک کہ دسمبر سنہ میں قرآن کریم کی انگریہ کی تفسیر کی جلد دوئم کا دوسر احتہ شائع ہو گیا۔یہ سورۃ مریم سے سورہ جاثیہ تک ہے۔اس دوران میں حضرت ملک صاحب کے لئے ایک آسانی یہ پیدا ہو گئی کہ تفسیر انگریزی کی تقسیم اور فروخت کا کام اور ٹینٹل اینڈ پلیمیں پیشنگ کارپوریشن لینڈ ریود نے اپنے ہاتھ میں