تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 685 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 685

۶۶۹ اب فلکی حالات اور بھی زیادہ مخدوش اور خطرناک ہو گئے تھے او۔۔۔قادیان میں خطرہ ہر لحظہ پڑھنا جارہا تھا اس لئے حضرت امیر المومنین نے پھر حکم دیا کہ غیر معمولی قیمت کے ساتھ تمام قرآن شریف زیرا گا ہو پہنچا دیا جائے چنانچہ میں نے یہ تمام مرے ایک بڑی لاری میں بھر کرنا ہور بھیجو تے اور فرسے محرمی شیخ بشیر احد صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی کے ایک کمرہ میں امانتا ر کھود کیے گئے۔میں ستمبر ہ کو قاوات سے لاہور پہنچا اور فرمے شیخ صاحب کے ہاں سے لیکر جلد بندی کے لئے کشمیر آرٹ پر یس کو دیا ہے اور جب سارے قرآن مجید کی جلد میں بندھ گئیں تو پھر ۱۹۴۰ کے شروع سے اُن کی فروخت شروع کی تقسیم کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت ملک غلام فریاد صاحب بھی لاہور آگئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رفتن باغ میں رہنے لگے حضرت مولوی شیر کی صاحب کو ڈیوس روڈ پر ایک کو ٹھی میں جگہ ملی۔ملک غلام فرید صاحب میں لوڈ کی کوٹھی نشے میں آباد ہوئے۔اور ترجمہ قرآن مجید کا دفتر جود حامل بلڈنگ میں بنایا گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ذاتی نگرانی ہیں دوسری جلد کی تیاری کا کام شروع ہو گیا مگر صد ہزار افسوس کہ بورڈ ترجمہ القرآن کے سب سے سینیٹر میر حضرت مولانا شیر علی صاحب کا ہوا تو براہ کو انتقال ہو گیا۔اب صرف دو آدمی رہ گئے ایک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دوسرے حضرت ملک اور شیر صاحب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب قادیان سے آتے ہی حفاظت مرکز اور خدمت درویت ان کے کاموں میں ایسے معروف ہوئے کہ انہیں دن رات میں کسی لمحے بھی فرصت نہ ملتی۔اب اس عظیم الشان اور نہایت ہی مشکل کام کا ساز اباد صرف حضرت ملک غلام فرید تا پر آپڑا اور حضرت امیر المومنین نے بھی ان سے یہ فرمایا کہ اب صرف آپ ہی کلینہ میرے سامنے ترجمعہ القرآن کے تمام کام کے جوابدہ اور ذمہ دار ہیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری کو پورے طورپر محسوس کرتے ہوئے اس کام کو جلد سے جلد ختم کرنے کی کوشش فرمائینگے۔جو بے حد ضروری اور نہایت اہم ہے۔اگر چہ مشکلات بے حد یتیں اور ایک اکیلے شخص سے اس عظیم الشان کام کا سرانجام پانا بظاہر ناممکن نظر آرہا تھا مگر حضرت ملک غلام فرید صاحب نے اس پیرانہ سالی اور مختلف عوارض میں منتقل ہونے کے باوجود اس خالص مذہبی خدمت کو بجالانے کا عزم بالجزم کر لیا اور ہمہ تن