تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 687 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 687

نے لیا اور حضرت ملک صاحب کو اس بڑے جھمیلے کے کام سے نجات ملی اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ تصنیفی دماغ آنے پانیوں کا حساب کتاب رکھنے اور ایک ایک کتاب کو بار با رگن کہ رکھنے سے بڑا گھبراتا ہے حضرت ملک صاحب نے اس نئے انتظام کو نہایت غنیمت سمجھا اور اطمینان اور سکون کے ساتھ تصنیفی کام میں مشغول ہو گئے جو ان کا محبوب مشغلہ تھا۔دیکھئے مختلف اور متعدد ذمہ واللہ اول کی موجودگی میں کام کی رفتار کتنی سست رہی کہ تغیر کی دوسری جلد کا پہلا حصہ انہ میں چھپا تھا مگر اس کا دوسرا حصہ گیارہ سال بعد نشانه میلہ ۱۹۳۹ میں شائع ہوا لیکن جب کام کی ذمہ داریاں ہلکی ہو ئیں اور حضرت ملک صاحب کو اطمینان کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا تو تفسیر القرآن انگریزی کی نمیری اور آخری جلد ۱۹۶۳ء میں چھپ گئی۔جو سورہ احقاف سے سورۂ الناس تک کے مضامین پر مشتمل تھی۔اس ببلد کے ساتھ تمام قرآن مجید کی انگر یزی تفسیر ختم ہو گئی ہوبڑی تقطیع کے ۲۹۷ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے اور عجیب و غریب قرآنی معارف کا حسین و دلفریب مرقع ہے۔حضرت امیر المومنین نے تمام تفسیر پر جو نہایت فاضلانہ اور محققانہ مقدمہ لکھا ہے اس کے صفحات ۲۷۶ اصل کتاب کے صفحات سے علیحدہ ہیں یعنی کل تفسیر القرآن انگریزی کے صفحات کی مجموعی تعد او ۳۱۹۳ ہے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب کا حصہ اس مقدس کام میں بہت کافی تھا تفسیر القرآن کی پہلی جلد جو ابتدائی پندرہ پاروں پر مشتمل تھی ساری کی ساری حضرت میاں صاحب کی نگرانی میں مرتب ہوئی اور اس میں کسی نہ کسی شکل میں ان کی شرکت اور تعاونت اور امداد شامل ہی لیکن قادیان سے آنے کی پیش نہیوں اور بہت سی مختلف مصر فیتوں کے باعث ہو اس دور ابتدائی میں وقتاً فوقتاً پیش آتی رہیں حضرت میاں صاحب مجبوراً تفسیر القرآن انگریزی کے کام کی طرف اپنی پوری توجہ منعطف نہ کر سکے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ترجمہ کی نظر ثانی کا کام آپ حضرت بیک غلام فرید صاحب کے ساتھ ملکر ان کے صلاح مشورے سے آخر تک کرتے رہے۔اس کا اظہار ملک صاحب نے بھی ترجمہ القرآن کے متعلق اپنے ایک بیان میں جو نا کہاں راقم الحروت کو لکھ کر دیا صاف طور پر کیا ہے۔خدا کا ہزارہ شکر و احسان اور فضل و کرم ہے کہ ہو مہتم بالشان کام حضرت مولوی شیر علی قناه