تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 683 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 683

۶۶۷ بر کا کام کہ ہی رہے تھے کہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے بین کو اس کام سے بے حد دلچسپی تھی مناسب سمجھا کہ اس کام کی تکمیل کے لئے مولوی شیر علی صاحب کو کچھ عرصہ کے لئے لندن بھیجدیا جائے وہاں چونکہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بعض ایسی کتابیں موجود ہیں جو یہاں نہیں مل سکتیں ہنا دیاں یہ کام نسبتاً آسانی سے ہو سکیگا۔چنانچہ حضرت امیر المومنین کے ارشاد کے ماتحت حضرت مولوی شیر علی صاحب لندن جانے کے لئے قادیان سے ۲۶ فروری ۹۳۶انہ کو روانہ ہو گئے ہے اور وہاں تقریباً تین سال تک وہ کہ یہ کام کرتے رہے۔اس عرصہ میں بے شمار لوٹ ترجمة القرآن کے متعلق انہوں نے جمع کیئے جو بعد کے ایام میں اپنی اپنی جگہ تفسیر القرآن انگیر بزی میں درج کئے گئے۔دیال سے واپسی کے بعد بھی حضرت مولوی صاحب اسی کام میں مشغول تو ہے مگر چونکہ حضرت امیر المومنین کو اس کام کی تکمیل کی بڑی فکر تھی اور آپ چاہتے تھے کہ میں طرح بھی ہو یہ ضروری کام جنگ جلد ختم ہو جائے اسلئے آپ نے کام کے مسلسل اور باقاعدہ بھاری رہنے اور جلد تھے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے لئے یہ انتظام کیا کہ مئی ۹۲ نہ میں جماعت کے قابل اور فاضل حضرات کا ایک بورڈ مقرر فرمایا جو سرعت۔تیزی - روائی عمدگی۔خوبی اور انتہائی احتیاط کے ساتھ ایک دوسرے کے تعاوات سے اس کام کو انجام تک پہنچائے۔بہر حال یہ کام ۱۹۲۲ء میں شروع ہوا اور مسلسل ہوتا رہا۔قادیان میں کوٹھی دار الحمد ترجمہ قرآن کا دفتر تھا۔یہاں راقم الحروف نے بار ہا حضرت مرزا بشیر احمد فضا حضرت مولانا شیر علی صاحب اور حضرت ملک غلام فرید صاحب کو نہایت انہماک اور محنت کے ساتھ ایک میز پر یہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ایک ایک لفظ پہ بخشیں ہوتی تھیں۔ایک ایک فقرہ بڑی احتیاط کے ساتھ یا ہمی تبادلہ خیال کے بعد کھا جاتا تھا۔ایک ایک آیت کے متعلق دیکھا جاتا کہ قدیم مفسرین نے اسکے کیا معنی کئے ہیں ؟ احادیث میں اس کے متعلق کیا لکھا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی کیا تفسیر فرمائی ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے اس کی کیا تشریح کی ہے ؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس کا کیا مطلب بیان کیا ہے؟ پھر الفاظ کے متعلق بڑی بحث ہوتی تھی یعنی لغت میں اس لفظ کے کیا کیا معنی ہیں ہے محاور دیں یہ لفظ کس طرح استعمال ہوا ہے ؟ زیر بحث آیت میں اس کے کون سے معنی نسبت زیادہ درست بیٹھتے ہیں ؟ آیت کا مطلب قدیم اور جدید مفسرین نے کیا بتایا ہے ؟ اور ان میں تفصیل تاریخ احمدینہ جلد ہشتم حتا دن میں آچکی ہے۔