تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 679
تفکرات کا مقابلہ کر سکیں ہماری جان کے حصے میں تو صرف چندے ہی ہیں تفکرات میں اس کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تفکرات اُن تک پہنچتے ہی نہیں جیسے خطرہ کے وقت ماں اپنے بچے کو گود میں سلائینتی ہے اور سارا بوجھ خود اٹھالیتی ہے۔ایسی ہی حالت اسوقت میری ہے کہ ان خطرات سے جو اسوقت مجھے نظر آرہے ہیں جماعت کو آگاہ نہیں کر سکتا اور سارا بوجھ اپنے دل پر لے دیتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے کام تو ہر حال خدا تھانے نے ہی سرانجام دیتے ہیں میں جماعت کے لوگوں کو کیوں پریشان کروں۔اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے گا اُس کی مثبت پوری ہو کر رہے گی۔درحقیقت جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اور مخدا تعالیٰ کی طرف سے جو رتبہ مجھے عطا کیا گیا ہے اس کے لحاظ سے سب سے پہلا اور آخری ذمہ دار میں ہی ہوں اور جماعت کے بوجھ اٹھانے کا حق میرا یہی ہے جیسے قرآن کریم میں ذوالقرنین کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس نے کہا تھا تونی زبر الحدید یعنی لوہے کے ٹکڑے میرے پاس لاؤ وہی بات میں نے بھی پیش کر دی ہے کہ تم اپنی جائیدادوں کا ایک فی صدی قربانی میں پیش کر دو۔وہ خود جماعت کی حفاظت کے سامان پیدا کر دیگا۔اس وقت تمہارا کام صرف زیر الحدید پیش کرتا ہے ورنہ اصل اور اہم کام تو خدا تعالے اور اس کے مقرر کردہ افراد نے ہی کرتا ہے جبکہ ازاد نے بھی کیا کرتا ہے خدا نتو رہی ہے جماعت تو ان مصائب اور مشکلات کے مقابلہ کی طاقت ہی نہیں رکھتی کیونکہ اُن کو دور کرنا انسانی فاقت سے بالا ہے۔پس سوائے خدا تعالے کی ذات کے اور کوئی ہستی اُن کو دُور کے ہی نہیں سکتی لیکن ہو چھوٹا سا کام ہماری جماعت کے ذمہ ہے اگر جماعت اس میں بھی سستی اور غفلت سے کام لے تو یہ نہایت ہی افسوسناک امر ہو گا یہ سلسلہ تفسیری قرآن نگریزی کی اشاعت جماعت احمدی کی طرف سے قرآن مجید کے کلیدی سے انگریزی ترجمہ اور تفسیر کی ایک عرصہ سے جو مخلصانہ کوششیں جاری تھیں اُس کا پہلا شیریں پھل احسان ربون محلات میں تفسیر القرآن انگریزی جلد اول کی شکل میں ظاہر ہوا جو سورۃ فاتحہ سے لیکر سورۃ کہف تک کے مطالب پر مشتمل اور ساڑھے بارہ سو صفحات پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے ابتداء میں حضرت مصلح موعود کے قلم سے لکھا ہوا ایک نہایت پر معارف دیباچہ ل الفعل الامرد فال جولائی م م 19