تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 678
۶۶۳ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جائیدا وہیں وقف کہ دیں ہیں میں طرح وہ تحریک جدید بنیاد تھی پس بعض اور عظیم الشان کاموں کے لئے اسی طرح حفاظت مرکز کے متعلق جو تحریک چندہ کے لئے کی گئی ہے یہ بھی آئندہ بعض عظیم الشان کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور جس وقت یہ تحریک اپنی تکمیل کو پہنچے گی اس وقت مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں اپنے کمال کو پہنچ جائینگی در حقیقت جانی قربانی کا مطالبہ وقت زندگی کے ذریعے کیا جارہا ہے اور پانی قربانی کے ایک بہت ہی بلند مقام پر کھڑا کیا جارہا ہے پھر شاید وہ وقت بھی آجائے کہ سلسلہ ہر شخص سے اس کی جان کا بھی مطالبہ کرے اور جماعت میں یہ تحریک کی جائے کہ ہر شخص نے جس طرح اپنی مہانداد خدا تعالے کے لئے وقف کیا ہوئی ہے اسی طرح و اپنی زندگی میں خدا تھا نے کے لئے وقف کر دے تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے پہلے اس کے بعد ایک اور خطبہ میں دوبارہ یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا :۔و یقین خطرات میں سے اس وقت ہمارا ملک گذرہا ہے اور جن خطرات ہیں سے اس وقت ہماری جماعت گزر رہی ہے ان میں سے جو خطرات ظاہر ہیں وہ سب دوستوں کو معلوم ہیں مگر بہت ہی بانیں ایسی بھی ہیں جو آپ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور میان ان کا اس لئے ظاہر ہیں کہ تاکہ کیا منور لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں ورنہ ان دنوں ہماری جماعت ایسے خطرات میں سے گزر رہی ہے کہ ان کے تصور سے مضبوط سے مضبوط انسان کا دل بیٹھ جاتا ہے اور اس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔صرف جماعت کے کزور لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے اور بعض دوسرے مصالح کی وجہ سے میں وہ باتیں پر وہ اعضاء میں رکھتا ہوں اور یہ ان دنوں میں بعض اوقات اس طرح محسوس کرتا ہوں جیسے کسی عظیم الشان محل کی دیواریں نکل جائیں اور اس کی چھت کے سہارے کے کے لئے ایک سرکنڈا کھڑا کر دیا جائے۔تو جو مال اس سرکنڈے کا ہو سکتا ہے۔یہی حال بسا اوقات ان دنوں میں اپنا محسوس کرتا ہوں وہ بو گجر جو اس وقت مجھ پر پڑ رہا ہے۔اور وه معطرات جو جماعت کے مستقبل کے متعلق مجھے نظر آ رہے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان کا اظہارہ میں شکل ہے اور ان کا اٹھانا بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں۔محض اللہ تعالے کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے میں اس ہو تجھ کو اٹھائے ہوئے ہوں ورنہ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جس کے کندھے اتنے مضبوط ہوں کہ وہ اس بوجھے کو سہار سکیں اور ان له الفضل ۲۲ ہجرت رمنی ۱۳۰۰۲۶ صفر