تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 637
میں شخص نے ابو سعید صاحب کو قتل کیا وہ پہلے امرت سر یا پھر اہور اگر اپنے محلہ کیا۔امرت سرمیں جو تقریریں کی گئیں ان سے ابوسعید صاحب کا کوئی تعلق نہ تھا۔مگر حملہ کرنے کی جو دیہ بیان کی جاتی ہے اس میں بھی کوئی معقولیت نہیں چھ ماہ قبل تبدیلی کی درخواست منظور نہ ہونے کا اتراب نکلنا تھا۔معلوم یہی ہوتا ہے کہ قاتل نے اس تحریک کا اثر لیا جو سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف پیدا کی بھارہی ہے اور بجھا میں پر حملہ کرنے لگا ہوں وہ ابو سعید ہے۔یہ نہ سمجھا کہ احمدی ہے اور احمدی تو پہلے ہی مارے ہوئے ہیں ان کو کیا مارنا۔مرحوم میں اخلاص تھا اور ان کی ساری ملازمت دیانتداری سے گزری۔جب وہ تھانیدار تھے اس وقت بھی افسروں نے بتا یا کہ دیا نداری کے لحاظ سے صوبہ میں وہ ایک مثال رہے۔مگر باوجود اس کی ان کی ترتی دغیرہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی رہتی۔ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو کہنے لگے پولیس میں کوئی دیانت دار ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ایک بات انہوں نے یہ بتائی کہ ہر وقوعہ کی تحقیقات تھانیدار کے ذمہ ہوتی ہے۔مگر عملی طور پر ایسا کیا نہیں جاسکتا۔دوسرے لوگ حوالدار وں وغیرہ سے تحقیقات کرا کر اپنے نام لکھ دیتے ہیں۔میں ایسا نہیں کہ تا اس لئے جواب طلبی ہوتی رہتی ہے۔ان کی طبیعت میں ایک قسم کا حجاب تھا اور جماعت کے لوگوں سے کم ملتے تھے۔تاکہ کوئی سفارش نہ کر دے۔ہے تو یہ غلط بات کیونکہ اگر سفارش بھائمہ اور درست بات کے متعلق ہو تو اسکی قبول کرتے ہیں کیا حرج ہے۔اور اگر غلط ہو تو پھر اسکی ماننے کے کیا معنی۔بہر حالی ان کا طریق یہی تھا۔اب بھی سنا ہے کہ دیانتداری میں وہ مثال تھے کا ہے حضرت مسیح موعود کے بتائے ہوئے تین یہ عورت کی دور روان اور جان ہے۔میں کوکامیاب بنائی کا تبلیغ طریقوں کو استعمال کرنی کا اہم ارشاد موثر ذریعہ یہ ہے کہ جماعت کے مبلغین خصوصا اور دیگر افراد موٹا تبلیغ کے ان طریقوں پر عمل کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں۔لیکن ایک عرصہ سے ان کو نظر اندازہ کیا جارہا تھا میں پر حضرت سید نا الصلح الموعود نے ۱۳۲۵ ۱۵ نبوت / نومبر یا اور پیشی کو اس فرد گذاشت کی طرف خاص توجہ دلائی اور ارشاد فرمایا :- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ہر قومیں تبلیغ کرنے کیلئے ۱۳۲۵ ه الفضل ها را حسان / جون ریش ده به