تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 638 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 638

کچھ گر بتائے ہیں۔اور وہ ہر قوم کے لئے الگ الگ ہیں اور اگر موقع اور محل کے مناسب انکو استعمان کیا جائے تو ہم ہر قوم میں تبلیغ کر کے بڑی آسانی سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ان میں سے سلمانوں کے اندر تبلیغ کرنے کے لئے سب سے بڑاگر یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے مسئلہ کو باطل ثابت کیا بجائے عیسائیوں میں تبلیغ کے لئے یہ گر ہے کہ نقلی اور عقلی دلائل سے ان پر یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت علی علیہ السلام صلیب پر چڑھے تو ضرور تھے مگر صلیب پر سے زندہ اتر سے اور بعد میں طبعی موت مرنے سکھوں میں تبلیغ کے لئے یہ گر ہے کہ اُنہیں بتایا جائے کہ ان کے بزرگ حضرت بابا نانک صاحب اسلام کو مانتے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اسلام کی خدمت میں کمر باندھی ہوئی تھی اور ہندوؤں میں تبلیغ کا اگر یہ ہے کہ ان کی کتابوں سے جن کو وہ الہامی یا مقدس مانتے ہیں ان کے سامنے یہ ثابت کیا جائے کہ ان کے اوتاردی نے یہ خبر دی تھی کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں ایک خاص زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور یہ کہ اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعثت ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے تشریف لانے سے وہ خبر پوری ہو چکی ہے۔یہ تمام گر گو یا تبلیغ کی جان ہیں۔اور یہ ایسے کار آمد ہتھیار ہیں جو ہم ہر قوم کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے صحیح استعمال سے ہماری ہر میدان میں فتح یقینی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مختلف علاقوں کے لوگ مختلف طبائع کے ہوتے ہیں اور ان طبائع کے مطابق ذرائع بھی اختیار کر نے پڑتے ہیں جسطرح لڑائی کے میدان میں دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کے اندفاع کیلئے کبھی ایک پہلو بدلنا پڑتا ہے کبھی دوسرا پہلو اختیار کرنا پرتا ہے اور جو شخص نادانی سے ایک ہی پہلو اختیار کئے رکھتا ہے وہ دشمن پر فتح نہیں پا سکتا اور جو شخص ہوشیا را در چالاک ہوتا ہے وہ دوسرے کے مطابق اپنا پہلو بدلتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح تبلیغ میں بھی پہلو بدلنا پڑتا ہے۔مگر تبلیغ میں اصولی باتوں کو نظر انداز کر دینا جائز نہیں۔اے صاحبزادہ میاں عباس احمد خانصاحب حضرت مصلح موعود کے ارشاد میر عباس احد خانصاح یک سفر انگلستان کے ماتحت بغرض تعلیم کی ان فنی در پیش کی بذریعہ ہوائی جہانہ انگلستان روانہ ہوئے۔نے ا ه الفضل فتح امبر ا م : اہش ه الفضل صور فتح / دمبر میشم +