تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 594
ہو۔ڈال کر سرا سرو نیادی معاملات میں مشغول ہو گئے اور مادیات میں منہمک ہو گئے۔ایسے وقت میں کبھی کبھی ان کے دلوں میں خداتقانلی کا ہلکا سا تصور آشکارہ ہوتا مگر عارضی اور غیر دائی اور پھر اپنی دنیا میں لگ جاتے۔تب اللہ تعالے نے ان کی ہدایت کے لئے ایک پیغمبر کا بھیجنا ضروری سمجھا۔ادہر سلمان اپنے مذہب کو بھول کر افتراق و شقاق کا شکار ہو چکے تھے۔انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر نے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی مصلح آئے۔چنانچہ الہ تلائے نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو سب اقوام کے اکٹھا کرنے کے لئے بھیج دیا اور تم وہ پہلے شخص ہو مجھے اپنی قوم میں سے اُسے قبول کرنے کا موقع ملا ہے۔اور ان کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کیلئے وقف زندگی کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ہم آپ کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت عطا فرمائے اور ہر روز آپ کے اخلاص اور جوش کو بڑھاتا رہے۔بیشک وہ مقصد جسکے لئے آپ کھڑے ہوئے ہیں بہت عظیم الشان ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس وقت تمہیں تمہارے ملک کے لوگ بھی نہیں جانتے چہ جائیکہ دوسری دنیا۔لیکن وہ وقت آئیگا کہ حبیب خدائے واحد کا نام دنیا پر قائم ہو چکا ہوگا اور ہر طرف احمدیت ہی احمدیت ہوگی تو اس وقت تمہارے ملک کے لوگ تاریخ کی کتابوں کی چھان بین کریں گے اور وہ تلاش کرنے لگیں گے کہ کیا ابتدائی دور میں کوئی انگر نیامدی ہوا۔جب وہ دیکھیں گے کہ ہاں ایک شخص مٹر بشیر احمد آرچرڈ تھا نجی ابتداء میں احدیت کو قبول کیا اور غیر معمولی قربانیاں کیں یہ دیکھ کر ان کے دا خوشی سے بھر بھائیں گے۔اور اُن کے قلوب اطمینان سے پُر ہو جائیں گے اور نہایت مسرت سے کہیں گئے کہ انگر یہ قوم نے اپنا حق خدمت ادا کر دیا۔اس وقت بیشک تم نا معلوم اور غیر معروف ہو لیکن وہ زمانہ آئیگا اور عید آئیگا جب قومیں تمہارے نام پر فخر کریں گی اور تمہارے کارناموں کو سراہیں گی۔پس تم اپنی حرکات وسکنات کو معمولی نہ جود در یہ نہ ھو کہ یہ حرکات صرف میری ہیں، بلکہ یہ ساری انگریزی تو کی ہیں۔دو لوگ جو بعد میں آئیں گے وہ تمہاری ہر حرکت کی نقل کہیں گے اور تمہارے ہر لفظ کی پیروی کریں گے۔کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا کہ آج مسیح علی السلام کے حواریوں کو ایسا بلند در بر حاصل ہے کہ ساری انگرینی توم ان کی پیروی اور نقل میں فخر محسوس کرتی ہے اور اسی طرح مسلمن بھی صحابہ کی ورسول کریم صلی الا علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور بینظیر قربانیاں کیں عزت کرتے ہیں اوران کی ہرحرکت اور ہر لفظ کی پر دہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔گر تمہاری حرکات و مکانات اسلام کے مطابق ہوںگی اور میر مرتب و نشان ہو گیا تو یاد رکھو اس وجہ سے تمہاری قوم بھی ترقی کر جائیگی لیکن گر دہ صحیح اسلامی معیار کے مطابق نہ ہوں گی بلکہ ناقص ہونگی تو تمہاری قوم ترقی سے محروم