تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 595 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 595

ردہ بھائے گی۔پس ہمیشہ کوشش کرو کہ آنے والوں کیلئے بہترین نمونہ قائم کر جاؤ اور اعلی درجہ کی یاد چھوڑ جاؤ ورنہ للہ تعالی کسی در شخص کو کھڑا کر دنیا جو اس کام کو سر عام دیگا۔اس زمانہ میں جب احدیت دنیا پر غالب آئے گی اور ضر در غالب آکر رہے گی اور کوئی طاقت اُسے روک نہیں سکتی اس وقت لوگوں کے دلوں میں تمہاری عظمت بہت بڑھ جائے گی۔حتی کہ بڑے سے بڑے وزیر اعظم سے بھی زیادہ ہوگی۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اخلاص اور جوش سے کام کرو اور آنیوالی نسلوں کے لئے بہترین نمونہ چھوڑ جاؤ۔اگر میں مں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنا فضل اور رحم تمہارے شامل حال رکھنے اور وہ مقصد جیکی ابتداء تم نے کی ہے اُس کی انتہا وہ کامیابی کی ہے۔آمین " اے مسٹر بشیر آرچر دار ماه تبوک استمبر تار میش تک قادیان دارالامان میں رہے ازاں بعد پاکستان اور پھر انگستان آگئے اور گلاسگو میں نئے احمدی مشن کی بنیاد رکھی۔بعد ازاں ڈر گیا نا بغرض اعلائے کلمہ اللہ تشریف لےگئے۔آجکل گلاسگو میں ہی نہایت اخلاص و سرفروشی کے ساتھ تبلیغ اسلام کے فرائض بجالا یہ ہے ہیں۔حضرت امیرالمومنین کی طرف سے مالی وجانی ، حضرت علیہ اسی ان ان الصلع الورود نے مجلس مشاورت ہر مہیش کے موقعہ پر فرمایا :- قربانیوں اور محبت کے لئے تیار ہے کا فرمان میں نے۔۔۔قدم بقدم جما عت میں ان قربانیوں کا احساس پیدا کرنے کے لئے وقف جائیداد کا طریق جامدی کیا تھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد کم سے کم یہ احساس اپنے اندر پیدا کریں کہ ہم سے جب بھی کسی قربانی کا طالبہ کیا جائیگا ہم اسکو پیش کردیں گے اور اپنے دل میں سے نکال دیں کہ بار بار جانی اور مالی قربانی کا مطالبہ کرنے کے باوجود ابھی تک بجان اور مال کو قربان کرنے کا وقت نہیں آیا۔زمانہ اس وقت کو ترسے قریب تو ارہا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آج سے دس سال بعد یا بیس سال بعد یا پچاس سال بعد وہ زمانہ آنے والا ہے۔مگر ہر حال وہ منزل ہمارے قریب آرہی ہے اور جب تک ہماری جماعت اس دروازہ میں سے جماعت اس دروازہ میں سے نہیں گزرے گی وہ صحیح معنوں میں ایک مامور کی جماعت کہلانے کی بھی حقدار نہیں ہوسکتی یہ قطعی اور یقینی اور لازمی بات ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کو ه - الفضل در تجرت مئی میشی - د مندرجہ باں تقریروں کا انگریزی متن رساله دیوید آن ریجنز به انگریزیون - ده شد بابت ماه چون شرو صلا تا مٹ میں شائع شدہ ہے۔اس رسالہ میں مسٹر بشیر آرچرڈ کی تصویر بھی موجود ہے) ؟