تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 593 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 593

تعلیم تشریف لائے۔لے ALA خضر مصلح موعود کی تقریر میرا ہے بادہ بات اسی ہے کہ میں کو آپکے اعزاز میں ایک دعوت دی گئی میں مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایڈریس پیش کیا جسکے جواب میں بشیر آرچرڈ کی دعوت کی تقریر ہے " مسٹر بشیر آرچرڈ نے حسب ذیل تقریہ کی : پہلی دفعہ میں جب قادیان آیا تو میرا قیام صرف دو روزہ تھا۔اس اثناء میں میں نے بہت سے دوستوں سے تبادلہ خیالات کیا اور مذہبی معلومات حاصل کیں مگر کوئی خاص اثر میری طبیعت پر نہ ہوا۔گاڑی پر سوار ہو کہ میں قادیان سے رخصت ہو گیا مگر ابھی چند میں بھی طے نہ کئے ہوں گے کہ یہ واقعات یکے بعد دیگرے میرے ذہن میں آنے شروع ہوئے اور وہ نوازش، مہربانی اور شفقت جس کا اظہار میرے ساتھ کیا گیا۔خوشگوار یادیں بنکر میرے دل میں چکر لگانے لگی جیسے لمحہ بہ لحد میری طبیعت متاثر ہوتی جار ہی تھی۔گاڑی جب امر تسر پہنچی تو اس وقت مشاہدات قادیان کا گہرا نقش میرے دل پر کندہ ہو چکا تھا چنانچہ اسکی بد می میں شہر میں بھی گیا میں جماعت کے لوگوں کو تلاش کر تا خوش قسمتی سے وہ ہر شہر میں مجھیل جاتے اور وہاں بھی مجھے وہی شفقت اور محبت کا نظارہ دیکھنے میں آتا جس کا نظارہ میں نے قادیان میں دیکھا تھا۔حتی کہ ایک دن ایسا بھی آیا جب میں خود احمدیت کی آغوش عاطفت میں بھا چکا تھا۔مجھے ایک سال مسجد احد یہ لنڈن میں رہنے کا موقعہ بہار وہاں بھی میں نے اسی شفقت اور ہمدردی کا مشاہدہ کیا تو قادیان میں دیکھنے میں آئی تھی۔اخوت کی یہ روح جو جماعت احمدیہ کے ہر فر دیں پائی جاتی ہے اس کی صداقت کو پھیوں نے کے لئے کافی ہے۔اگر مدت سچی نہ ہوتی تو یہ روح بھی مفقود ہوتی جو کسی اور جماعت اور قوم میں دیکھنے میں نہیں آتی " بشیر آکر چھڈ کے بعد حضرت امیر المومنین نے انگریزی میں ایک پر معارف تقریر کی جس میں فرمایا :- بشیر احد ار چو ڈ صاحب چونکہ اردو نہیں جانتے اس لئے اس خیال سے کہ وہ پوری بات کو سمجھ سکھ میں اپنے خیالات کا انگریزی میں اظہار کو دیتا ہوں۔ایک وقت تھا جب عیسائی قوم حضرت علی علیہ اسلامی تعلیم یا پرایا اور اسکے ساتھ ساتھ وہ دنیاوی ترقیات میں بھی پیش پیش تھی لیکن اس کی بعد عیسائی قوم نے حضرت سیع کو معبود یا اور جو تیم واتا ھے اسے ہیں نبشت الفضل ا ر ہجرت امی پیش مت کا نم ۳