تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 582 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 582

گیا تو اس نے کہا کہ کرن کی موجودگی میں بھٹیاں سکتی تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔پھر اس نے کہا یہ تو ہا ئی تار ہے ہیں نے کہا میرا ووٹ ہے اور وہاں سے تار آیا ہے۔بناوٹی نہیں۔انہوں نے کہا کچھ بھی ہو تمہیں پھٹی نہیں مل سکتی۔میں وہاں سے آکر سیدھا سٹیشن کی طرف بھاگا اور ریل میں سوار ہوا۔امرتسر پہنچا تو بالہ کی ریل مردانہ ہو چکی تھی وہاں سے دور کر رہی لی۔جب لاری بالر پہنچی تو قادیان کی ریل روانہ ہوچکی تھی۔اس پر بٹالہ سے قادیان پیٹ روانہ ہوا لاری اور دوڑتے ہوئے قادیان پہنچ کر اپنا دوٹ دیا۔انہوں نے جگہ کا نام تو نہیں بتایا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادیان میں ہی آئے تھے کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ میں دوست دیگر خلیل احمد صاحب ناقر کے پاس جو انچارج تھے آیا اور کہا کہ ایسا واقع ہوا ہے انہوں نے کہا کوئی بات نہیں تم اپنے جاؤ۔میں واپس آیا تو پہلے تو مجھے قید کر دیا گیا کہ تم بغیر بیٹی کیوں گئے تھے۔پھر میرا ر نیک توڑ کر مجھے سپاری بنا دیا گیا۔اب دیکھو یہ دوست فوجی تھے اور جانتے تھے کہ اگرمیں بن جاتا چلا گیا تو مجھے قید کی سزاملے گی۔مگر باوجود اس کی وہ بھاگ کہ یہاں پہنچے اور ووٹ دیا۔یہی اخلاص ہے جو قوموں کو کامیاب کیا کر تا ہے۔لوگ تو مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم جنت کا لالچ دیگر یاد و رخ سے ڈرا کہ کام لیتے ہو حالانکہ ہم کسی کو دور رخ سے ڈرانے کے قائل ہی نہیں۔نہ مذہبی طور پر اور نہ سیاسی طور پر۔اگر ہم دشمن کو دوزخ سے ڈرائیں تواحد یوں کو تو روٹ عنا بالکل ہی ناممکن ہو جائے۔کیونکہ احمدیوں کی تعداد دوسرے مسلمانوں سے بہت ہی کم ہے یکون جیسا کہ مں نے بتا یا ہے ہمیں یہ ضرورت ہی نہیں کہ ہم کسی کو دور رخ سے ڈرائیں یا جنت کا لالچ دل کہ کام کیا ہیں کیونکہ ہماری جماعتہ ہمیں خدا تعالے کے فضل سے قومی بیداری اس قسم کی پیدا ہو چکی ہے کہ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ فلای کام دنیوی ہے۔اکثر لوگ اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ دنیوی حقوق کو محفوظ کر نا بھی ثواب کا کام ہوتا ہے۔اسی طرح میرے خطبہ کے بعد قادیانی والوں نے بھی فرض شناسی سے کام لیا۔اور انہوں نے چالیس کے قریب سائیکل چند گھنٹوں کے اندر اندرسیاں بشیر احد صاحب کے پاس پہنچا دیئے۔اسی طرح بہت سے آدمیوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔اور فوراً پیر د نجات میں چلے گئے۔آج الیکشن کے سلسلہ میں ہمارے کارکن مجھے ملنے آئے تو انہوں نے کہا کہ گاؤں کے احمدیوں نے تو کمال کر دیا۔وہ سارہ سے علاقہ میں ٹڈی دل کی طرح پھیل گئے تھے۔بالخصوص گاؤں کے لوگوں نے اور اسے بھی زیادہ خصوصیت کے ساتھ و بخوان کھوکھر اور لوری انگل انیان فتح منگل ، انتھوال، گلانوالی ، دھرم کوٹ قلعہ ٹیک سنگھ وغیرہ وغیرہ۔تلونڈی والوں نے بھی اچھا کام کیا ہے۔لیکن اتنا نہیں ملتی ان سے اسمیر کی جاتی تھی۔مگر ہر حال انہوں نے بھی اچھا کام کیا ہے۔نکھوں میں سے نہیں تھے۔۔۔۔بعض اور جماعتوں نے بھی بڑا عمدہ کام کیا ہے۔لیکن اس وقت مجھے ان کے نام۔