تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 583
۵۶۸ یاد نہیں رہے۔فجزاهُمُ الله اَحْسَنُ الجزا اوران سنے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ جب مومن کام کرنے پر آتا ہے تو وہ ہر قسم کے عواقب سے نڈر ہو کہ کام کرتا ہے۔دنجواں میں مخالفین کی شرارت پر پولیس نے احمدیوں کے دوٹوں کو روکنے کی کوشش کی مگر نوجوان مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے آدمی سے کہ بھاتے ہیں خواہ پولیس دخل اندانہ کی ہی کیوں نہ کرے۔پولیس نے ایک دو ووٹروں کو روکے رکھا اور باقیوں کو چھوڑ دیا۔لیکن جب تمہارے دوسرے آدمی پہنچ گئے تو باقیوں کو بھی انہوں نے پھوڑ دیا۔بہرحالی جماعت نے نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔جہاں تک الیکشن کروانے کا سوال تھا تبات نے اپنی قربانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اور بے مثال قربانی پیش کر کے جماعت کی ترقی کے لئے ایک راستہ کھول دیا ہے۔لہ مسته فلسطین وادی۔کی چوہدری محمد ظفراله خانصاب الصاحب بیج فیڈرل کورٹ آف انڈیا سئلہ فلسطین کے مضمون پر وائی ایم سی اے ہال لاہو میں ۱۲۰ صبح جبوری ہمیش کو ایک نہایت اہم اور معلومات افتر اتقریر فرمائی جلسہ کا اہتمام نوجوانان احدمیت يوم کی بین الکلیاتی تنظیم احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن نے کہا اور صدارت کے فرائض جناب ڈاکٹرای موکی لوکس وائس پرنسپل ایف سی کالج لاہور نے انجام دیئے۔اختبار انقلاب (لاہور) نے اس تقریر کا ملخص حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا :- برطانیہ اور امریکہ یہودی سرمایہ کے اثر کے باعث آزادانہ طور پر کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔سیاسی علی میں بھی یہودیوں کا اثر کم نہیں ہے۔موجودہ پارلیمنٹ کے دارالعوام میں ۲۵ یہودی نمبر ہیں۔دو یہودی وزیر اور ایک یہودی سیکرٹری آف سٹیٹ۔اسی طرح امریکہ میں بھی وہ ملک کی سیاسی مشین پر اش مندانہ ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ سوال کہ کیا فلسطین ان ملکوں میں شامل تھا جن کے بارے میں گزشتہ جنگ کے آغانہ میں حکومت برطانیہ نے عربوں کو آزادی کا یقین دلایا تھا۔آج تیس سال کے بعد بھی عمل نہیں ہو سکا۔فلسطین میں گذشتہ ۲۱ سال کی بدامنی اور ناخوشگوار حالات کے باوجود حکومت برطانیہ اس مسئلہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔پہلی عالمگیر جنگ سے موجودہ وقت تک فلسطین کی سیاسیات کا جائزہ لینے کے بعد سر محمد ظفراللہ خاں صاحب نے کہا کہ فلسطین کے موب حسب ذیل چار وعدوں کی بنا پر جو کہ حکومت برطانیہ نے ائی سے کئے تھے فلسطین میں ایک له الفضل یکم زمان / مارچ درپیش مشت :