تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 581 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 581

044 حضرت مصلح موعود نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- مدتوں نے ایکشن میں قربانی کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی متفق ہیں کران کے اس ذکر کو ہمیشہ تازہ رکھا جائے اور بار بار جماعت کے سامنے اس واقعہ کو لایا جائے۔انہوں نے بے نظیر قربانی در نهایت، اعلی درجہ کی جان نثاری کا ثبوت دیگر ثابت کر دیا کہ وہ مردوں سے قومی کاموں میں " آگے نکل گئی ہیں۔لہ عورتوں نے واقعہ میں نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔۔۔۔۔بعد میں مجھے ایک اور مثال کا پتہ لگا جو حیرت انگیز تھی عدمیں جے ایک مال کا پتہ نگا اور حسینی قادیان کی مثالوں کو بھی مات کر دیا۔ہمار ے جو آدری الیکشن کے کام کے لئے گئے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے سنا یا کہ ایک گاؤں میں ایک احمدی عورت دو ڑتی جس کا ہمیں علم نہیں تھا۔ووٹ دینے کی مقررہ تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے اسے استاد مل ہوگیا اور چونکہ ہمیں یہ نہیں تھا کہ وہ دور ہے اس لئے ہم نے وہاں کوئی سواری نہ بھجوائی۔اس دن جب کئی گھنٹے دوٹنگ پر گزر گئے تو ایک آدمی نے آکر بتایا کہ فلاں جگہ ایک عورت بیہوش بیڑی تھی اور لوگ اس کو اٹھا کر اسکے گاؤں واپس لے گئے ہیں۔اس کی باتوں سے بیتہ لگتا تھا کہ وہ ووٹ دینے آئی تھی۔چنانچہ ہمارے آدمی وہاں گئے لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔اس پر انہوں نے فوراً اس کے لئے اس کے گا دیکی میں سواری بھیجی۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی اس بیماری کی حالت میں ہی چل پڑی اور اپنے گاڑی سے دو میں دُور کہ بہوش ہو کہ گر پڑی۔گاؤں والوں نے اُسے اٹھایا اور واپس لے گئے۔لیکن جب اُسے ہوش آیا تودہ اٹھکر پھر دوڑنے لگی اور کہا کہ میں نے تو ووٹ دنیا ہے۔اس اثناء میں سوار ی بھی پہنچے گئی اور وہ اس پر سوالہ ہو کر روٹ دینے آگئی۔اس نے بتایا کہ میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ خلیفتہ اسی نے کہا ہے کہ جب سے ممکن بوده درت دینے کے لئے ضرور پہنچ جائے اس لئے میں اپنا ساراندور لگانا چاہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ووٹ دے آؤں۔اس عرصہ میں بیرو نجات سے آنے والے لوگوں میں سے بھی بعض کی مثالیں بڑی شاندار معلوم ہوئی ہیں۔کل ہی مجھے ایک نے جی کا خط ملا ہے۔وہ انبالہ میں تھا یہاں سے اُسے تار گیا کہ تمہار اوٹ ہے لیکن گورنمنٹ کی طرف سے ہو چھٹی جاتی ہے وہ نہیں گئی۔وہ خط میں لکھتے ہیں کہ بتا دوہاں پہنچا تو دتر کا افسر ہندو تھا چونکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ میں روٹ کیلئے بھاؤں اپنی تار دبادی۔کرنل چھٹی پر جارہا تھا جب وہ چلا گیا تو امرینی تارہ مجھے دکھائی میں نے وہ نار اپنے نچلے افسر کو دکھائی وہ کہنے لگا کہ میں تو رخصت نہیں دے سکتا بڑے افسر کے پاس جاؤ۔میں اس بڑے افسر کے پاس : اتفضل دار تبلیغ ۱۳۲۵ ش صفحه کالم ۲ :