تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 552
ملنے کے لئے آئے اور بیعت کر کے واپس گئے۔بعدمیں کئی بہانہ قادیان میں حضور کی زندگی میں آئے اور کئی کئی دن حضور کی صحبت میں رہے اور جلسہ سالانہ پر بھی ضرور اہتمام کے ساتھ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ منصرہ العزیز کی ملاقات کرنے کے سوا واپس نہ جائے۔آپ نے آخری وقت میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کی خدمت میں آخری سلام عرض کرنے کی وصیت فرمائی تو حضور کی خدمت میں پہنچا دیا گیا۔آپ کا وعظ اور آپ کی تصانیف غیر احمدیوں میں بہت ہی مقبول ہوئیں۔آپ ہمیشہ تصانیف و عظوں اور ملاقاتوں میں ایسے رنگ میں احمدیت کا ذکر کرتے کہ جسے لوگ شوق سے سن لیا کرتے ہیں ابوالمنظور حضرت مولوی محمد دلپذیر صاحب کا پیدا کردہ پنجابی لٹریچر :- معجزات محمدی - کامن النساء (اول - دوم) - خوان مینیما - گلزار محمدی - گلزار یوسف - شرح ته دیوان حافظ - کشف غطا - تفسیر پارہ عم - شرح کبریت احمر - درد دارد واهی - احوال الآخرت - نماز مترجم منظوم پنجابی سیٹی مسیح دی۔اقبال مہدی - وفات نامه حضرت حافظ روشن علی صاحب۔در بار مهدی - اسلامی شاری مه تر دید رسومات ختنہ - شہادت نامه شهید فی سبیل اللہ حضرت مولوی نعمت الله خانمی مبلغ احمدی - چند ڈی۔نیزه احمدی دا دل - دوم ) - حق آوازه - فقیر دی صدار فریاد اسلام۔ڈھنڈورہ احمدی - گلزار بھیرہ۔خیال دلپذیر - گلزار مکه - رفعات دلپذیر - تفسیر تیم القرآن سے د تا در پادگا۔مور کو سیدھے۔-۵- حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری :- د ولدت بیعت شاد - وفات سر ظہور اگست ۲۳ کاری اے حضرت مود نا عبدالماجد صاحب نے مڈل اسکول پورینی (ضلع بھاگلپور سے شملہ میں مڈل در نیکلر کا ۱۹۴۶ ه الفضل در تبلیغ / فروری یه مش - مث به ه : ان سب کتابوں کا تذکرہ حضرت مولوی صاحہ نے اپنی کتاب سلیم احوال الآخرت کا پر فرمایا ہے ، احوال الآخرت کاس تصنیف شوال کلیه مطابق فردری۔مارچ شہداء ہے اور اسے سے پہلے ملک ہیرات و کتب کشمیری با داری پور نے شائع کیا تھا۔اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب اس وقت تک سلسلہ احمدیہ میں داخل نہیں ہوئے تھے۔گو انہوں نے اس میں کھلے لفظوں میں لکھا کہ چاند سورج گرہن کا نشان سے یا بعد میں آنحضرت کی پیشنگوئی کے عین مطابق پورا رمضان روکا ہے۔امت طبع اول : کے -: رسالہ " واذا الصحف نشرت " ص ۲۰۲۲ عرقه را با مارکت ایران الفضل در انفاء / اکتور به بیش صلا: