تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 551 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 551

العلم الله میں اتنا سیلیس اور اتنا دلچسپ رنگ کسی نے پیدا نہیں کیا۔آپ کا نام پنجاب میں اتنا مشہور اور معروف ہے کہ بچہ بچہ جانتا ہے اور پنجاب کے لوگ یہاں جہاں بھی گئے آپ کی تصانیف بھی یہاں پر پہنچیں۔چنانچہ عرب میں بھی جہاں اس زبان کو کوئی بھانتا تک نہیں جب آپ پہلی مرتبہ کی میں حج کعبہ سے مشرف ہونے کے لئے گئے تو جتنے دن وہاں رہے وہ پنجابی احباب جو خاص مکر میں سکونت قائم کر چکے تھے صبح و شام برابر دعوتیں کرتے رہے۔انہوں نے صرف تصانیف کے ذریعہ کتا ہوا تھا کوئی ذاتی واقفیت نہ تھی۔آپ نے اس سارے سفر اور حج کے احکام کو پنجابی ۱۳۵۳ نظم میں لکھا جو رہنمائے حج کے نام سے شائع ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ اس مد میں صرف زیارت مدینہ کے لئے گئے کیونکہ پہلی دفعہ وہاں حاضر نہ ہو سکے تھے۔اس سفر اور مدینہ طیبہ کے حالات کو جنہیں آپ نے گلزار مدینہ کے نام سے ایک کتاب منتظرم میں مفصل لکھا ہے۔وہ بھی چھپ چکی ہے۔آپ نے ایک سو سے اور پر کتا بیں نظم میں بھی ہیں اور آج تک کسی پنجابی شاعر کی استدار تصانیف ثابت نہیں۔قریباً ستر سال آپ نے قلم چلایا۔آپ کی جسقدر بھی تصانیف ہیں سب کی سب نہ ہی تعلیم کی کتابیں ہیں۔مسلمانوں کی دنیا دی اور دینی بہبودی کو یہ تصنیف میں آ مد نظر رکھا۔شرک اور بدعت کو ہر رنگ میں قوم سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔آپ نے قرآن کریم کی آیات کی بناء پر خطبات جمعہ اور عیدین مرتب کر کے پنجابی نظم میں پہلی بار پیش کئے۔اسے پہلے کسی نے نہیں کئے اور وہ خطبات اسقدر رائج ہوئے کہ میرانی طرفہ کے خطبے اب بالکل مفقود ہیں اور آپ کے ہی معطیات غیراحمدی علماء اکثر مساجد میں پڑھ کر سنایا کرتے ہیں۔۔سارے قرآن کریم کی تفسیر بھی آپ نے پنجابی نظم میں لکھی ہے جو پنجاب کے بچے اور بچوں کے لئے نہایت مفید ہے اور یہ حضرت سیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی روشنی میں کھیں گی ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام کے صحابہ میں سے تھے۔حضور کی زندگی میں کئی کئی دن قادیان میں آکر رہا کرہ تھے۔آپ پہلی دفعہ قادیان میں اس وقت آئے جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جموں سے قادیان آگئے تھے۔حضرت خلیفہ اول نہ آپ کی والدہ صاحبہ کے رضائی بھائی تھی۔اور آپکے والد صاحب کے شاگردوں میں سےتھے۔اماں یا قادیان میں صف اول می شد تعالی عنہ کو