تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 544
۵۲۹ اور مشہور ادیب ہیں۔مولانا شمس نے بیان دیتے ہوئے فرما یا یو رپ کو مذہب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ یورپ اپنا علاج کر سکے۔اور اپنے مضطرب قلب کو تسکین دے سکے۔اس مقصد کی ادائیگی کے لئے اسلام اپنے اندر بہت بڑی طاقت رکھتا ہے جس کا مقصد دنیا کو امن کے راستہ پر چلانا ہے۔اور ان سیلفین کا کام یہی ہو گا کہ وہ اسلامی عقائد کی تفصیل اور اغراض بیان کریں۔یورپ کے مذہبی اداروں نے اس تحریک کے متعلق خاص اہتمام کا اظہار کیا ہے۔جس کی مثال سابقہ زمانے میں نہیں پائی جاتی اور اس خوف یہ خدشہ کا اظہار کیا گیا ہو کہ ہو سکتا ہے کہ اہل یورپ میں کو نیک تقوی تعداد مذ ہب اسلام قبول کر لے۔کیونکہ اس وقت اکثر لوگوں کا عقیدہ (عیسائیت تبدیل ہو چکا ہے۔یہاں تک کہ انگلش چرچ بھی اس امر یہ مجبور ہو رہا ہے کہ وہ اہل برطانیہ میں مسیحیت کی تبلیغ قائم رکھنے کے لئے دس لاکھ پاؤنڈ خرچ کرہ ہے۔ایک معرزہ انگریز پادری نے مجھے کہا کہ میں ہر اس تحریک کو خوش آمدید کہتا ہوں جو کسی دینی عقیدہ کے اختیا نہ کرنے کی طرف دعوت دیتی ہو۔کیونکہ میں ہمیشہ اسلامی فیلسوف ابن مرشد کے اس نفیس قولی کو یاد رکھنا ہوں کہ:۔دیندا نہ انسان کا اعتماد کی۔اگر چہ دہ تمہارے عقیدہ پر نہ ہو۔اور بے دین انسان کا اعتماد نہ کی۔اگر چہ وہ یہ دعوی کرتا ہو کہ میں تمہارا سے مذہب پر قائم ہوں گے جامعہ ازہر میں بھی اس تبلیغی دند کی وجہ سے ہلچل پیدا ہوئی اور لکھا گیاکہ یہ کام در اصل ہمارا ہے۔گو ظا ہری الفاظ میں تو جماعت احمدیہ کے متعلق اظہار نہیں کیا گیا۔مگر حقیقت شناس اصحاب سے یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔چنانچہ مصر کے مشہور ادبی مجلہ الرسالت والروائت ۲۳ مارچ ۱۹۳۶ میں) احمد الشریاضی اور بس الان پیر الشریف کا ایک مکتوب بنام " الاستاذ الاکبر شیخ الجامع الاز ہر شائع ہوا اس میں آپنے میں الازہ سر کی خدمت میں واضح طور پر کھا کہ از ہرکا ایک فرد بھی تبلیغ اسلام کی خاطر بیرون مر نہیں بھیجا گیا۔حالانکہ یہ کام جامعہ ازہر سے زیادہ تعلق رکھتا ہے یہ نسبت دوسری جماعتوں کے۔چنانچہ مفصل فیہ میں سے ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔علامہ