تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 534
An ہے۔چنانچہ حضور نے ۲۴ ظہور را گست پیش کو خاص اسی موضوع پر ڈلہوزی میں خطبہ پڑھا۔جس میں ۶۱۹۴۵ پیش گوئی فرمائی۔کہ میں نے اللہ تعالٰی کے فضل سے پچھلے دس سال میں جو باتیں اپنی جماعت کی ترقی اورر دنیا کے تغیرات کے متعلق بتائی تھیں ان کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ وہ کس طرح لفظ بلفظ پوری ہوئی ہیں۔اور ان کی تفاصیل اسی طرح وقوع میں آئی ہیں جس طرح میں نے بیان کی تھیں۔اب میرے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ گئی ہے کہ آئندہ اندانہ بیس سالوں میں ہماری جماعت کی پیدائش ہوگی یہ بچوں کی تکمیل تو چند ماہ میں ہو جاتی ہے اور نو ماہ کے عرصہ میں وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن بچے کی پیدائش اور قوم کی پیدائش میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ایک فرد کی پیدائش بے شک نو ماہ میں ہو جاتی ہے لیکن قوموں کی پیدائش کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں آئندہ بین سال کا عرصہ ہماری جماعت کے لئے نانزک ترین زمانہ ہے۔جیسے بچے کی پیدائش کا وقت نازک ترین وقت ہوتا ہے۔کیونکہ بسا اوقات وقت کے پورا ہونے کے باوجود پیدائش کے وقت کسی وجہ سے بچہ کا سانس رک جاتا ہے۔اور وہ مردہ وجود کے طور پر دنیا میں آتا ہے۔پس جہاں تک ہماری قومی پیدائش کا تعلق ہے میں اس بات کو میچ کے طور پر گڑا ہوا اپنے دل میں پاتا ہوں کہ یہ نہیں سال کا عرصہ بہار کی جماعت کیلئے نازک تے ہیں مرحلہ ہے۔اب یہ ہماری قربانی اور ایثار ہی ہوں گے جن کے نتیجہ میں تم قوی طور پر زیادہ پیدا ہوں گے یا مُردہ۔اگر ہم نے قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا اور ایثار سے کام لیا اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارا ، محبت اور کوشش کو اپنا شعار بنا یا تو خدا تعالے ہیں زندہ قوم کی صورت میں پیدا ہونے کی توفیق دے گا اور اگلے مراحل ہمارے لئے آسان کر دیگا ہے نیز فرمایا :- خوب یا درکھو میں دن کسی قوم میں قربانی بند ہوئی وہی دن اُس قوم کی موت کا ہے قوم کی زندگی کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ قربانیوں میں ترقی کرتی پھلی بھائے اور قربانیوں سے بھی نہ چرائے۔اگر ہم ساری دنیا کو بھی فتح کرلیں پھر بھی ہمیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنے فرمایا بی دقت نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے یہ توئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے۔در پورت مجلس مشاورت پرسش ما "