تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 523
۵۱۰ اس سلسلہ میں حضور نے مجوزہ لائبریری کی نسبت ایک تفصیلی سیکم بھی تیار کی۔چنانچہ فرمایا۔یوں تو لائبریری پڑھنے ہی کے لئے ہوتی ہے۔لیکن ہماری عرق چونکہ یہ ہوگی کہ اسلام کی تبلیغ کو ساری دنیا میں پھیلائیں اس لئے ساری دنیا میں تبلیغ پھیلانے کے لئے ضروری ہوگا کہ ہم ایسے آدمی یادہ کہ میں جو ہر نہ بان جاننے والے ہوئی۔یا اگر ہر ایک زبان نہیں تو نہایت اہم نہ بانہیں جاننے والے ہوئی۔جن زبانوں میں ان مذاہب کی کتابیں پائی جاتی ہیں مثل یونانی ہے ، عمرانی ہے تاکہ عیسائیت اور یہودیت کا لٹریچر پڑھ سکیں اور عربی جانے والے بھی ہوں تا کہ اسلام کا لٹریچر پڑھ سکیں۔فارسی جانے والے بھی ہوں تا کہ اسلام کا نہ پچر پڑھ سکیں سنسکرت اور تامل جانے والے بھی ہوں تاکہ ہندو اور ڈریر ڈبلیس کا لٹر پھر پڑھ سکیں۔پانی زبان جاننے والے بھی ہوں تاکہ بدھوں کا ٹریچر پڑھ سکیں۔چینی زبان جاننے والے ہوں تا کہ کنفیوشس کا لٹریچر پڑھ سکیں اور پہلوی زبان بھی جاننے والے ہوں تاکہ زرتشتیوں کا لٹر پھر پڑھ سکیں۔اسی طرح پرانی دو تہذہ میں ایسی ہیں کہ گو اب وہ تہذیبیں مٹ چکی ہیں مگر اُن کا لٹریچر ملتا ہے ان میں سے ایک پرانی تہذیب بغداد میں تھی اور ایک مصر میں تھی ان کا لٹریچر پڑھنے کے لئے بالی زبان اور ہلیو گرانی جاننے والے بچا نہیں تا کر ان کے لٹریچر کو پڑھ کر اسلام کی تائید می جو توالے مل سکیں ان کو جمع کریں اوران کے ذریعہ اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں ان حملوں کا جواب دے سکیں۔۔۔پس ہمارے لئے ضروری ہوگا کہ ہم اس قسیم کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے لوگ پیدا کہ میں اندران کو اس کام کے لئے وقف کر یں کہ وہ لائبریری میں بیٹھکر کتابیں پڑھیں اور معلومات جمع کر کے مردان صورت میں مبلغوں کو دیں تا وہ انہیں استعمال کریں۔اسی طرح وہ اہم مسائل کے متعلق تصنیفات تیار کریں۔اگر ان لوگوں کی رہائش اور گزارہ کے لئے دولاکھ روپیہ وقف کریں تو یہ اٹھارہ لاکھ روپیہ بنتا ہے پھر ان کی کتب کو شائع کرنے کے لئے ایک مبلغ کی ضرورت ہے جس کے لئے ادنی اندازہ دوں لکھ کا ہے اسکے علاوہ پانچ لاکھ روپیہ اندازہ اس بات کے لئے چاہیئے کہ جو تصنیفات وہ تیار کریں ان کو شائع کیا بجائے اور پھر ایسا انتظام کیا جائے کہ نفع کے ساتھ وہ سرما یہ واپس آتا جائے اور دارالمصنفین کا کنارہ اس کی آمد پر ہو۔یہ وہ صحیح طریقہ ہے جس کسی ذریعہ سے ہم عملی دنیا میں ہیجان پیدا کر سکتے ہیں اور اس کام کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے " سے و ه - الفضل حکیم ہجرت مئی ۱۳۲۳ ش ص :