تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 522 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 522

جلدی میں ان رقوم کی میزان کرنے میں کچھ غلطی ہوگئی ہو۔لیکن انت بقصد چندہ ہو چکا ہے۔دوہ دولاکھ بائیس ہزار سات سو چونسٹھ روپے شمار کیا گیا ہے کہ اس کے بعد حضرت مصلح موعود نے یہ فرماتے ہوئے کہ یہ سجدہ شکر ہے پھر سجدہ کیا اور تمام مجمع حضور کے ساتھ خدا تعالے کے حضور سجدہ ریز ہو گیا اور نہایت وقت سے دعائیں کیں۔سجدہ سے اُٹھنے پر حضور نے فرمایا :- " بعض مواقع پر بولنے سے خاموشی زیادہ اچھی ہوتی ہے اسے میں اس جلسہ کو اللہ کے نام پر ختم کرتا ہوں اور دوستوں کو واپسی کی اجازت دیتا ہوں۔مجھے جو کچھ کہنا ہو گا بعد میں خطبات میں کہوں گا " لے ا بعد مجلس مشاورت کا آخری اجل کسی برخواست ہو گیا : سليم منای این مال کے ساتھ ایک عظیم شان حضرت امیر المومنين خليفة السيح الثاني الصلح الموعود کو ایس ایل الشان شہر میری اللہ تعالیٰ نے دور میں آنکھ بخشی تھی اور آپ کا ہر نیا کے قیام کی تجویز اور اس کے لئے مفصل کی قدم بصیرت اور حال ہی کی تیسے نئی راہیں کھول معاملہ فہمی نئی دیتا تھا۔منارہ اسی حال کی تحریک کسی سوچی ہوئی تجویز کا نتیجہ نہیں تھی۔بلکہ المہ دعائے نے مجلس شوری کے موقع پر نخود ہی جماعت کے دلوں میں ایسا نہ یہ درست ہوش اور اخلاص پیدا کر دیا کہ اندازہ سے بھی زیادہ چندہ نقدرا در وعدوں کی صورت میں ہو گیا۔اور جب یہ خبر شائع ہوئی تو باہر کے دوستوں کی طرف سے بھی تقاضا ہو نے لگا کہ ہمیں بھی ثواب میں شامل کیا جائے اور ساتھ ہی چند سے بھی آنے لگے۔حضرت مصلح موعود نے ایک طرف تو خطبہ جمعہ ۲۰۱ شہادت / اپریل ایران میں اعلان فرمایا کہ جماعت ۶۱۹۴۵ کا ہر فرد اس مد میں چندہ لکھوا سکتا ہے اور پانچ سال کے عرصہ میں بالاقساط یا یکمشت ادا سکتا ہے مگر دوسری طرف جماعت کے دوستوں کو بتایا کہ مجوزہ مال کم از کم پچیس لاکھ رو پیر میں نے گا۔اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد ہمیں ایسی صورت سوچنی چاہیئے کہ جب سے ہم اس مال کو اسلام کی تبلیغ کا عظیم الشان مرکز بنا دیں اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ مال کے ساتھ سولہ لاکھ درد ہے کے مصرف سے ایک عظیم اور مالی کا ہر میری بھی بنائیں جس میں دنیا کے تمام مذاہب کی اہم کتا ہیں اور اسلام کی قریب ساری کتابیں جمع کرنے کی کوشش کی جائے۔ے۔رپورٹ مجلس مشاورت اش م۱۵۵ تا صب ۶۱۹۴۵