تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 515
۵۰۲ تمدنی ہو یا معاشرتی۔بنی نوع انسان کی آزادئی ضمیر۔روحانیت۔اخلاق کی آزادی پر مشتمل ہو۔اور انسانی خوبیوں کی قدر کی بجائے۔کتاب اسلام کا اقتصادی نظام " کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ با قاعدہ حوالوں سے کام لیا گیا ہے اور موجودہ پاکستان کے خیالات کا آئینہ دار ہے جو سب سے بڑی اسلامی سلطنت ہے۔اگر پھر جماعت احمدیہ اس سلطنت کی ایک شاخ ہے اور شمالی افریقہ کے حنفی۔مالکی۔شافعی۔اہلسنت مسلمانوں سے ایک الگ فرقہ ہے۔لیکن اس جماعت کے نہ بر دست پر اپیگنڈہ اور موجودہ روحانی طاقت ہمیں قائل کرتی ہے کہ ہم سب ان کے لٹریچر میں سے ہسپانوی زبان میں پیش کردہ اسلام کا اقتصادی نظام کا مطالعہ کریں۔لے فصل سوم ناة المعامل تعمیراور مرکزی ابری کے قیام کی حیات ایمانی انتشارات کا ظہور فتہ اشتراکیت کے خلاف اعلان جنگ، ایم کے استعمال پراحتجاج ، توی تعلیم کی سیکیم ت واقفین کی تنگستانی روانگی حضرت حافظ مرزانا احمدرضا کی سالانہ جلسہ پر اہم تقریر منارة ایسے ہال کے لئے تحریک کے ایک تو جب سے حضرت علی المانی اصلی امور نے خداتعالی سے اشارت اخلاص فداکاری کا شاندار منتظر پا کر صلح موعود ہونے کا علان فرمایا جماعت احمدیہ کے اندر خدمت دین کے لئے ایک نیا جوش، نئی امنگ اور نیا ولولہ پیدا ہو گیا تھا۔اور وہ خدا کے موعود اور برگزیدہ خلیفہ کی آواز پر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لئے تیار ہو گئی تھی اور قربانی کے میدان میں آگے ہی آگے قدم بڑھاتی رہی مگر مجلس مشاورت پیش میں مخلصی احمدیت نے قربانی و ایثار اور اخلاص دندا کاری کا ایسا شاندار منتظر پیش کیا جو اپنی مثال آپ تھا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ یکم شہادت / اپریل ہش کو عملی مشاورت کا تیسرا دن تھا۔اس روز نه - روز نامه افضل را مورد در مورد استمر امه من :