تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 507 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 507

کے سب نعوذ باللہ لکھے اور قوم پر بار تھے اور ایسے آدمیوں کو ان کے قانون کے ماتحت یا تو فیکٹریوں میں کام کے لئے بھجوا دنیا چاہیئے۔تا کہ ان سے جوتے بنوائے جائیں۔یا ان سے بوٹ اور گرگابیاں تیار کرائی جائیں یا اُن سے کپڑے سلائے بھائیں۔یا اُن کو لوگوں کے بال کاٹنے پر مقر کیا جائے اور اگر یہ لوگ ا قسم کا کام کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھران کا کھانا پینا یہ کام کرنے بند کیا جانا چاہیئے۔کیونکہ ان کے نزدیک یہ لوگ تھے اور قوم کو بار ہیں۔کمیونسٹ نظام تصویر بنانے کو کام قرار دیا ہے۔وہ سٹیچو ( STATUE ) بنانے کو کام قرار دیتا ہے مگر وہ روح کی اصلاح کو کوئی کام قرار نہیں دیتا بلکہ اسے نکما پن سمجھتا ہے۔حالانکہ ہم بھانتے ہیں کہ روٹی ہی انسان کا پیٹ نہیں بھرا کرتی اور صرف غذا ہی اگرد کے اطمینان کا موجب نہیں ہوتی۔بلکہ ہزاروں ہزارہ انسان دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کو عبادت سے بدک دو تو وہ کبھی بھی چھین نہیں پائیں گے خواہ اُن کی غذا اور لباس کا کس قدر خیال رکھا جائے۔تعجب ہے کہ کمیونسٹ نظام چھ گھنٹہ نیکٹا ہوں میں کام کر کے سینیما اور ناچ گھروں میں جانیوالے اور شراب میں مست رہنے والے کو کام کرنے والا قرار دیتا ہے۔وہ فوٹو گرافی اور میوزک کو کام قرار دیتا ہے مگر وہ روح کی درستی اور اخلاق کی اصلاح کو کوئی کام قرار نہیں دیتا پچھلے دنوں مارشل مالی نووسکائی (MOLI NOVSKY ) سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے لڑکے کسی کام میں دلچسپی لیتے ہیں تو امی نے ہفتے ہوئے کہا کہ : << Interested ARE THEY IN PHOTOGRAPHY, " RABBITS٠ KEEPING AND MUSIC گو یا میونزم نظام میں ایک پندرہ سال کا بچہ جو فوٹو گرانی میں اپنے وقت کو گذار دیتا ہے۔جو میوزک میں دن رات مشغول رہتا ہے۔جو خرگو شودر کو پال پال کر ان کے پیچھے بھاگا پھرتا ہے وہ تو کام کرنے والا ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے روٹی دی جائے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیه دوستم مسیح موسی - کرشن - برمن در نشت گورو نانک۔یہ اگر خدا کے نام کو دنیا میں پھیلاتے ہیں تو وہ جاہل کہتے ہیں کہ یہ نعوذ بادہ میں ڈالک) پیرا سائی نس (PARASITES) ہیں۔یہ سوسائٹی کو پاک کر نیوالے جوانی ہیں یہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو کام کر نیواں قرار دیا جائے