تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 508
۴۹۵ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دن کو بھی کام کیا اور رات کو بھی کام کیا۔انہوں نے دن کو دن نہیں سمجھا اور راتوں کو رات نہیں سمجھا۔تعیش کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر لیا اور اٹھارہ اٹھارہ گھنتے بنی نوع انسان کی علمی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے کام کیا۔مگر یہ لوگ اُن کے نزدیک نکتھے اور قوم پر بار تھے۔وہ سنیما میں اپنے رات اور دن بسر کر نے والے تو کام کرنے والے ہیں اور یہ لوگ جو دن کو بنی نوع انسان کی اصلاح کا کام کرتے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے یہ کوئی کام کرنے والے نہیں تھے۔وہ لوگ جو بطور ایک دور کیا کرتے تھے یواخلاق درست کیا کرتے تھی۔جوہری کی تکالیف برداشت کر کے دنیا میں نیکی کو پھیلاتے اور بدی کو شانے تھے وہ تو یکھتے تھے اور یہ سینما میں بھانے والے اور شرابیں پی پی کر نا چھنے والے اور بانسریاں منہ کو لگا کہ ہیں ہیں کرنے والے کام کرنے والے ہیں۔غرض جہاں تک واقعات کا سوال ہے۔یکمیونسٹ نظام میں ان لوگوں کی کوئی جگہ نہیں۔میں دوسری دنیا کہ نہیں جانتا۔مگر میں اپنے متعلق یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ نظام جس میں محمد رسل شد علی اشد علیہ وسلم کی جگہ نہیں خدا کی قسم اگر میں میری بھی جگہ نہیں۔ہم اس ملک کو اپنا ملک اور اُس نظام کو اپنا نظام سمجھتے ہیں جس میں ان لوگوں کو پہلے جگہ ملے اور بعد میں ہمیں جگہ ہے۔وہ ملک اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بند ہے تو یقیناً ہر سچے مسلمان کے لئے بھی بند ہے۔وہ حقیقت پر پردہ ڈالکر مذاہب پر عقیدت رکھنے والوں کو اس نظام کی طرف لا سکتے ہیں مگر حقیقت کو نہ اصح کر کے کبھی نہیں لا سکتے " حضرت مصلح موعود کی اس پر شوکت تقریر کے بعد صدر جال البراند چندہ مانا کی صدارتی تقریر بلہ جناب کالہ رام چند چندہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی جس میں کہا :- و میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی انتر یہ شکنے کا موقعہ ملا۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں نہ تی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے۔اس کی اند نہ نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضور سنتے اسلام کا اقتصادی نظام " صفحه ۶۰ تا ۰ ، طبع اول :