تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 486
طویل مگر نہایت اہم معلومات افزا اور ضروری اقتباس او پر درج کرنے کے بعد اب ہم بتاتے ہیں کہ حضرت چودھری صاحب موصوف نے سد بندی کمیشن کے سامنے ۲۶ جولائی سے لے کر ۳۰ جولائی ماہ تک مسلم لیگ کا نقطه نگاه غیر معمولی قابلیت و لیاقت سے واضح فرمایا۔آپ کی فاضلانہ اور مدتل بحث بھی ریڈ کلف ایوارڈ کے ریکارڈ سے منسلک ہے اور اگر کتاب کی تنگ دامانی مانع نہ ہوتی تو یہاں اس بے مثال آئینی وسیاسی دستاویہ کا ترجمہ ضرور دے دیا جاتا۔مگر افسوس ہمیں بالآخر مختصر صرف اس بات پر اکتفاء کہ نا پڑ ے گا کہ دنیائے اسلام کے اس بطل جلیل اور پاکستان کے مایہ ناز فرزند نے مسلمانان ہند کے اس انتہائی نازک موڑ میں ان کی ترجمانی کا حق اس شان سے ادا کیا کہ مسلمانوں کے پرسنجیدہ مخلص اور درد مند طبقے نے یک زبان ہو کر آپ کی تعریف کی۔چنانچہ آپ کے اس ملی اور قومی کار نامہ پر جو خراج تحسین ادا کیا گیا اس کے چند نمونے یہ ہیں :۔اخبار نوائے وقت کا ادارتی نوٹ باؤنڈری کمیشن کے اجلاس کے خاتمہ پر اجارت نوائے وقت" کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا۔یکم اگست شاہ نے ایک ادارتی نوٹ میں چودھری صاحب شهد بندی کمیشن کا اجلاس ختم ہوا۔سنسر کی پابندیوں کی وجہ سے ہم نہ اس اجلاس کی کارروائی چھاپ سکے نہ اب اس پر تبصرہ ہی ممکن ہے کمیشن کا اجلاس دن دن جاری رہا۔ساڑھے چار دن مسلمانوں کی طرف سے بحث کے لئے مخصوص رہ ہے مسلمانوں کے وقت میں سے ہی ان کے دوسرے حامیوں کو بھی وقت دیا گیا۔اس حساب سے کوئی چار دن سر محمد ظفر اللہ خانصاحب نے مسلمانوں کی حریر سے نہایت مدلل ، نہایت فاضلانہ اور نہایت معقولی بحث کی کامیابی بخشنا خدا کے ہاتھ میں ہے گر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ سرمحمد ظفراللہ خاں صاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا۔اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق و انصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقہ سے ارباب اختیار تک پہنچا دی گئی ہے۔سر ظفر اللہ خاں صاحب کو کیس کی م اس روز آپ نے مسلم لیگ کی ہدایت پر بہاولپور کی طرف سے بھی کیس پیش فرمایا " الفضل " یکم اگست صفحه ۸) کے بحث کی تیاری کے سلسلہ میں ایک واقعہ کا ذکر کرناضروری ہے۔چوہدری صاحب نے میمورنڈم داخل کمشن کرانے کے اگلے دن ۱۹ جلائی علاقہ کو قادیان فون کیا کہ گیانی واحد سین صاحب اور گیانی عباد اللہ صاحب مسلمانوں نے اپنے عہد حکومت میں سکھوں کے ساتھ جو نیک سلوک کیا اور جاگیریں دیں ان کے حوالے اور اصل کتب لے کر لاہور آ جائیں چنانچہ اسکی تعمیل میں سکھ اور پر گئے یہ دونوں ممتاز فاضل ضروری کتابیں لے کر راہوں پہنچ گئے اور مسلم لیگ کے کیس کی تائید میں مطلوبہ مواد فراہم کر دیاہ