تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 485 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 485

۴۷۳ کی ہے اور چونکہ ووٹ بالغ آبادی نے دینا ہے اس لئے یہ ضلع بھارت میں شامل ہونا چاہیے۔ہم جب وہاں سے واپس آئے تو ہم سب بہت پریشان تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اگر ہمیں ۱۹۳۵ کی سنسنز پر پورٹ CENSUS REPORT مل جائے کہ اس وقت تک سب سے آخر میں ۱۹۳۵ء میں ہی سنستر CENSUS ہوئی تھی اور ایک کلکولیٹنگ مشین CALCULATING MACHINE مل جائے تو بلد بلد ضرب اور تقسیم کرتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے راتوں رات ایک ایسا نقشہ تیار کر سکتا ہوں کہ اس سے ضلع گورداسپور کی بالغ آبادی کی صحیح تعداد سنستر CENSUS پر اصول کے مطابق معلوم ہو جائے گی۔سنسر CENSUS کے متعلق انہوں نے بعض اصول مقرر کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے عمر کے لحاظ سے گروپ بنائے ہوئے ہیں اور ہر گروپ کی وفات کی فی صد انہوں نے مقرر کی ہوئی ہے۔وہ تو ایک سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں۔لیکن ہم نے ایسی عمر سے یہ کام شروع کرتا تھا کہ انہیں ۱۹۴۷ میں بلوغت تک پہنچا دیں۔مثلاً انہوں نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ تین سال کی عمر کے بچے پیارسال کی عمر کے ہونے تک سو میں سے بچانوے رہ جائیں گے۔پھر چار سال سے پانچ سال کی عمر ہے کہ وہ تمہیں سے اٹھانوے وہ بھائیں گے۔پھر انہوں نے بعض اسی قسم کے اصول وضع کئے ہوئے ہیں اور ہمیں ہر گروپ کو نر ہیں اور تقسمیں دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کی علیحدہ علیحدہ تعداد نکالنی تھی اور وہ تعداد معلوم کرنی تھی ہو ۱۹۴۷ میں بالغ ہو چکی تھی اور جو پہلے بالغ تھے ان کی تعداد تو پہلے ہی دہی بوٹی تھی میں نے حضرت فضل عمر رضی اللہ تعالے عنہ کی خدمت میں عرض کیا تو حضور نے فوراً مناسب انتظام کر دیا۔راتوں رات مجھے شایدہ پچاس ہزار یا ایک لاکھ ضرمیں دینی پڑیں اور قسمیں کرنی پڑیں۔لیکن بہرحال ایک نقشہ تیار ہو گیا اور اس نقشہ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلم بالغ آبادی کی فیصد مجموعی لحاظ سے کچھ زائد تھی کم نہیں تھی۔اگلے دن صبح جب مکرم چوہدری ظفر اللہ خانصاحب نے یہ حساب پیش کیا تو ہندو بہت گھبرائے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو حساب کا ماہر سمجھتے تھے۔اور انہیں خیال تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔“ سے جوهری محافظ الله انا کی انا اور دال بت پرخرا حسین کی خودنوشت سوانی کلایک " الفضل" در نبوت / نومبر صفحه