تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 484
۔بقول پرائیویٹ سیکرٹری گورنر جنرل جن حدود کی اطلاع انہوں نے گورنر مغربی پنجاب کو دی۔ان کی تعیین پرائیویٹ سیکرٹری نے ان دستاویزات سے کی جو امپائر کے سیکوٹری MR۔BEANMONT نے تیار کی تھیں۔یہ اطلاع اور یہ دستاویزات مسٹر بو ماؤنٹ نے مسٹرائیل کو ان کے منصب اور حیثیت کی وجہ سے دیں جس کی غرض صرف یہ ہو سکتی تھی کہ گورنر جنرل کو امپائر کے فیصلے کی اطلاع کر دی جائے۔مسٹر بیل نے جو اطلاع گورنر مغربی پنجاب کو دی وہ گورنر جنرل کے حکم سے ہی دی جا سکتی تھی۔ایسے اہم معاملے میں پرائیویٹ سیکرٹری اپنی مرضی سے بغیر ایشاد گورنر جنرل کے یہ اقدام نہیں کر سکتا تھا۔یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔جب مسٹر ایل نے گورنر مغربی پنجاب کو حد بندی کی لائن کی اطلاع دی اور فرمایا یہ امپائر کا فیصلہ ہے اس وقت یا تو امپائر اپنا فیصلہ کر چکا تھا اور اس کے سیکوری نے فیصلہ گورنر جنرل کی اطلاع کے لئے مسٹرائیل کو بھیج دیا۔یا معاملہ ابھی امپائر کے زیر غور تھا۔پہلی صورت میں جب امپائر نے فیصلہ مکمل کر لیا اور اس کی اطلاع گورنر جنرل کو بذریعہ اس کے پرائیویٹ سیکورٹی کے کر دی تو امپائر کے اختیارات ختم ہو گئے۔اس کے بعد امپائر کو فیصلے میں ترمیم اور تبدیلی کا کوئی اختیارنہ رہا دوسری صورت میں اگر معاملہ ابھی اس کے زیر غور تھا تو امپائر نے یہ اطلاع گورنر جنرل کے سیکرٹری کو کس غرض کے لئے دی ؟ اس کی ایک ہی غرض ہو سکتی تھی کہ وہ گورنر جنرل کی رضا مندی حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس صورت میں وہ ایک ناجائز بات کا مرتکب ہوا ہو اس کے منصب اور اس کی غیر جانبدارانہ حیثیت کے متناقص تھی اور حسین سے اس کا مزعومہ فیصلہ باطل ہوتا ہے اور قابل نفاذ نہیں رہتا " سے حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے مذکورہ بالا خود نوشته حالات و واقعات ایک اہم واقعہ سے تقسیم برصغیر کے دوران لار مونٹ بین سریر ریڈ کلف اور ہندوؤں کی باہی سازش بے نقاب ہو جاتی تنگی اس امر پر کانی روشنی پڑتی ہے کہ کس طرح پاکستان کو مسلم اکثریت کے علاقوں سے محروم کر کے عدل و انصاف کا خون کیا گیا ہے۔اسی ضمن میں ذیل میں ایک اہم واقعہ درج کیا جاتا ہے۔سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔2015ء میں جب باؤنڈری کمیشن بیٹھا تو اس کمشن کے سامنے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دجل کیا گیا بہندوؤں نے یہ دمبل کیا کہ انہوں نے باؤنڈری کمشن کے سامنے یہ بات پیش کر دی کہ گو ضلع گورداسپور کی مجموعی آبادی میں مسلمان زیادہ ہیں لیکن ضلع کی بالغ آبادی میں اکثریت ہندوؤں که خود نوشت سوانحمری حضرت چودھری محمد کا حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب صفحه ۳۹۰ تا ۴۰۰ (غیر مطبوعه)