تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 480
۶۸ فرمائیں لیکن جناب سردار صاحب تو نا سازی طبیع کی وجہ سے معذور ہیں۔آپ بہر حال ضرور تشریف لے آئیں۔چنانچہ وہ تشریف لے آئے میں نے تحریری بیان کا مسودہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا اور گذارش کی آپ اسے پڑھ لیں جو ترمیم یا تبدیلی آپ اس میں پسند فرمائیں وہ خاکسار کو بتادیں تاکہ آپ کے ارشاد کے مطابق اصلا کر دی بھائے۔انہوں نے ازراہ نوازش فرمایا جیسے تم نے لکھا ہے ٹھیک ہو گا مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہیں نے اصرار کیا آپ ضرور توجہ سے اسے پڑھیں اور آزادی سے تنقید کریں میں مسلم لیگ کی طرف سے بحث کرنے کی نوار اطمینان کرنا چاہتا ہوں کہ لیگ کی طرف سے مجھے کیا ہدایت ہے۔جس مسودے کی آپ تصدیق فرا دینگے رہی میرا ہدایت نہ ہوگا اور اسی کے مطابق میں بحث کروں گا میرے اصرار پر جناب میاں صاحب نے مسودہ توجہ اور غور سے پڑھنا پڑھنے کے دوران میں بھی پسندیدگی کا اظہار فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔جمعہ کی صبح کوؤں نے مسودے کی آخری نظر ثانی کی اور صاف ٹائپ ہونے کے لئے دے دیا۔جناب شیخ دین محمد صاحب دلی سے واپسی پرٹیشن سے ہی تشریف لائے اور بتایا کہ قائد اعظم استعفاء کی تجویز پر رہ نامند نہیں ہوئے۔فرمایا ہے تم سب لوگ اپنی طرف سے پوری کوشش کرو اور فکر نہ کر د سب کچھ ٹھیک ہوگا۔صاف ٹائپ ہو چکا تو میں نے آخری بار پڑھ کر جناب شیخ نثار احمد صاحب کے سپرد کیا اور وہ جا کر اسے کشن کے دفتر میں بارہ بجے سے قبل داخل کر آئے۔مجمعہ کے خطبے میں میں نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مسلمانوں پر وہی وقت آ رہا ہے جو سپین میں آیا تھا۔اس لئے آستانہ الہی پر گرے رہو اور بہت خشوع سے دعائیں کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ رحیم فرمائے اور اس مصیبت کو ٹال دے۔بقیہ حصہ دن اور ہفتہ اور اتوار کے دونوں دن بحث کی تیاری میں صرف ہوئے سوموار کو کشن کے رو بر و بحث شروع ہوگئی تحریری بیان اور تقریری بحث کشن کے ریکارڈ میں موجود ہیں جو صاحب اقصی حقیقت ہونا چاہیں انہیں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ہندو فریق کی طرف سے بحث مسٹر سیتسکواڈ نے کی۔ان کے مشیروں اور معاونوں میں ہندو قانون دانوں کے چیدہ دماغ شامل تھے جن میں جناب بخشی ٹیک چند صاحب پیش پیش تھے۔بحث کے خاتمے پر مجھ سے ایک معزز مسلم قانون دان دوست نے ذکر کیا کہ جناب بخشی صاحب نے ان سے فرمایا اگر حد بندی کا فیصلہ دلائل اور بحث ہی کی بنا پر ہو تو تم لوگ بازی لے گئے۔