تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 479 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 479

۴۷ ہوں۔آپ ضرور دتی تشریف لے جائیں لیکن قائد اعظم کی خدمت میں گزارش کرتے ہوئے یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ وہ بہت قانونی طبیعت کے مالک ہیں۔اس لئے آپ اپنے استعفاء کی بنیاد کسی قانونی بندر پر رکھیں ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ رضامند نہیں ہوں گے۔جناب شیخ دین محمد صاحب : تمہارے ذہن میں کوئی قانونی عذر آتا ہے۔ظفر اللہ خاں : آپ اجازت دیں تو میں اپنے خیال کا اظہار کر دیتا ہوں۔جناب شیخ دین محمد صاحب کہو۔ظفر اللہ خان : آپ قائد اعظم صاحب کی خدمت میں یہ گذارش کریں ہم نے سر سیرل ریڈ کلف کو امپائر تسلیم کیا ہے اور ہم ان کے فیصلے کی پابندی کریں گے لیکن امپائر کا فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر پہنچنے میں کسی دوسرے شخص کی رائے یا مشورے سے متاثر نہ ہو۔یہ کا نفذ ظاہر کرتا ہے کہ کسی جانب سے امپائر کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کی حد بندی کی یہ لائن ہو۔اب آپ کا یہ حق ہے کہ آپ مطالبہ کریں کہ آپ کا یہ اطمینان کیا جائے کہ امپائر کی اس مجوزہ پرواز سے کیا غرض تھی اور اس پرواز کی لائن کی کیا اہمیت ہے۔اگر آپ کا اطمینان ہو جائے کہ یہ حض امپائمہ کی طبیعت کا لطیفہ ہے تو فبہا ورنہ آپ مطالبہ کریں کہ اس پرواز کا مشورہ اُسے کس نے دیا اور اس میں کیا راز پنہاں ہے؟ اگر کسی دوسرے شخص کا تداخل ثابت ہو تو آپ حق بجانب ہوں گے کہ آپ کہہ دیں ہمیں امپائر کی غیر جانبداری پر اطمینان نہیں۔اس پر ہم دونوں اپنا استعفی پیش کر دیں گے۔جناب شیخ دین محمد صاحب : میں اپنی طرف سے تو ہر کوشش کروں گا۔پرسوں صبح دلی سے واپسی پر میں تمہیں اپنی ملاقات کا نتیجہ بتا دوں گا۔جمعرات کی سہ پہر کو جناب کرنیل محمد ایوب خاں صاحب (موجودہ صدر پاکستان تشریف لائے اور حالات محاضرہ پر اپنے تبصرے سے خاکسار کو مستفید فرمایا۔جمعرات کی شام تک تحریری بیان کا مسودہ تیار ہو گیا۔میں نے جناب سردار شوکت حیات خاں صاحب کے دولت خانے پر ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا جناب سردار صاحب کی طبیعت علمی چلی جارہی ہے اور درجہ حوارت ۱۲ ہے۔پلنگ پر ہیں اور طبعاً تشریف آوری سے معذور ہیں بپھراس نے جب میاں ممتاز محمد نعال دو الله صاحب کے دولتکہ سے پر ٹیلیفون کیا کہ میں چاہتا تھا آپ دونوں صاحب تشریف لا کر مسودے کا ملا حظہ انے حضرت چو ہدری صاحب نے جب وقت یہ تحریر لکھی اس دوخته اند ایب خان کی صدر پاکستان تھے مگر اب محمد علی خان صدر ہیں۔(مرتب)