تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 477 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 477

۴۶۵ سرانجام دہی میں مصروف ہو۔تمہارا وقت بہت قیمتی ہے، تم اپنے کام میں لگے رہو ہم وہیں آجائیں گے۔یہی مناسب ہے۔چنانچہ حضور تشریف لائے اور بٹوارے کے اصولوں کے متعلق بعض نہایت مفید حوالوں کی نقول خاکسار کو عطا کیں اور فرمایا۔اصل کتب کے منگوانے کے لئے ہم نے انگلستان فرمائش بھیجی ہوئی ہے۔اگر بر وقت پہنچ گئیں تو وہ بھی نہیں بھیج دی جائیں گی۔نیز ارشاد فرمایا ہم نے اپنے خروج پر یہ بندھی کے ایک ماہر پر فقیر کی خدمات انگلستان سے حاصل کی ہیں۔وہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور نقشہ جات وغیرہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔تم تحریر کی بیان تیار کر لینے کے بعد ان کے ساتھ مشورے کے لئے وقت نکال لینا وہ یہاں آکر تمہیں یہ پہلو سمجھا دیں گے۔چنانچہ متعلقہ کتب انگلستان سے قادیان پہنچیں اور وہاں سے ایک موٹر سائیکل سوار SIDE CAR میں رکھ کر انہیں لاہور لائے اور دوران بحث میں وہ ہمیں میسر آگئیں اور اُن سے نہیں بہت مدد لی۔پروفیسر S PATEہ نے دفاعی پہلو خاکسار کے ذہن نشین کر دیا۔ہندو فریق کی طرف سے ہندوستان کے دفاع کی ضروریات کی بناء پر مسٹر ایم ایل سیلواڈ نے بڑے زور سے دریائے جہلم تک کے علاقے کا مطالبہ کیا لیکن میری طرف سے پروفیسر SPATE کے تیار کردہ نقشہ جات کے پیش کرنے اور ان کی اہمیت واضح کرنے کے بعد فریق مخالف کی طرف سے ایک لفظ بھی جواباً اس موضوع پر نہ کہا گیا۔بحث کے دوران میں حضرت خلیفہ ایسے ہم خود بھی اجلاس میں تشریف فرمار ہے اور اپنی دعاؤں سے مدد فرماتے رہے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء بدھ کی شام کو جناب خان بہادر شیخ دین محمد صاحب تشریف لائے نہایت پریشان تھے۔فرمایا تم اپنی تیاری کرو اور جیسے بن پڑے بحث بھی کرنا اور منیر اور میں جو کچھ ہم سے ہو سکے گا ہم کریں گے لیکن میں نہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ یہ سب کچھ محض کھیل ہے۔حد بندی کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے اور اسی کے معلم ہوں بند کی ہوگی نہ تم کچھ کرسکتے ہو نہ ہم کچھ کرسکتے ہیں۔ظفر اللہ خاں : آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ جناب شیخ دین محمد صاحب: کل جب تم لوگ پہلے آئے تو سر سیرل ریڈ کلفت کے ساتھ جو ہماری گفتگو ہوئی ، اس کے دوران میں اس نے ذکر کیا۔کل صبح میں ہوائی جہاز میں ارد گرد کا علاقہ دیکھنے کے لئے بھا رہا ہوں۔اس پر میں نے کہا اگر آپ حد بندی کے سلسلے میں علاقہ دیکھتے جارہے ہیں تو آپ ضرور کچھ تاثر اس معائنے سے اخذ کریں گے ادھر بطور امپائر آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنا فیصلہ اسی مواد کی