تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 476 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 476

میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ تادیر مشورے اور تیاری میں مصروف رہا۔ان کے تشریف لے جانے کے بعد بھی کھانے اور نماز سے فارغ ہو کر اعداد و شمار کی پڑتال اور سرکاری اعلان کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے اور تحریری بیان کے لئے نوٹ تیار کرنے میں بہت سا وقت صرف ہوا۔غرض منگل کا دن بہت پریشانیوں میں صرف ہوا لیکن سوتے وقت تک میری طبیعت میں کسی قدر سکون پیدا ہو گیا تھا کہ اللہ تعالٰی نے محض اپنے فضل و کرم سے بنیادی مواد بھی میتر فرما دیا اور مخلص رفقائے کار بھی عطا فرمائے اور میری بے علمی اور جہالت کی تاریکی میں کچھ اُبھال بھی کر دیا۔بدھ کی صبح کو میں بجلد تیار ہو کر ناشتے سے فارغ ہو گیا۔سات بج چکے تھے لیکن جناب نواب صاحب کے ارسال کر دہ زود نولیں ابھی تشریف نہیں لائے تھے۔ان کی انتظار میں میں مزید دیکھ بھال اور تیاری میں مصروف رہا ہے، بج گئے ، پونے آٹھ بجے ، آٹھ بج گئے۔اب پھر میں پریشان ہوا جناب خواجہ عبد الرحیم صاحب کی خدمت میں ٹیلیفون پر گزارش کی۔انہوں نے فرمایا۔میں ابھی انتظام کرتا ہوں چند منٹ کے بعد انہوں نے اطلاع دی۔میرے دونوں سٹینو گرافر مع ضروری سامان نو بجے تک تمہارے پاس پہنچ جائیں گے چنانچہ یہ دونوں صاحبان نو بجے سے قبل ہی تشریف لے آئے اور میں نے تحریری بیان کا مسودہ اطار کروانا شروع کر دیا۔اتنے میں میرے رفقائے کار بھی تشریف لے آئے اور میرے ساتھ شامل ہو گئے۔میں املا کرواتا اور وہ چوکس نگرانی رکھتے اور جہاں ضرورت ہوتی مشورہ دیتے یا اصلاح کرتے۔دونوں زود نویں اپنے فن میں ماہر تھے اور بہت تو بہ ، محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرتے رہے جس سے ہمارے لئے بہت سہولت ہو گئی۔فجزا ہما اللہ احسن الجزاء۔جناب نواب صاحب کے تجویز کردہ زود نویس بحث کے آخر تک ہمیں میسر نہ آئے اور نہ ہی نواب صاحب کی طرف سے کوئی اطلاع ملی کہ وہ کیا ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن دنوں لاہور ہی میں تشریف فرما تھے۔بدھ کی سہ پہر کو جناب مولانا عبد الرحیم در و صاحب خاکسارہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا حضرت صاحب نے مجھے بھیجا ہے کہ تم سے دریافت کروں کہ حضرت صاحب کس وقت تشریف لا کہ تمہیں تقسیم کے بعض پہلوؤں کے متعلق معلومات بہم پہنچا دیں۔خاکسار نے گذارش کی ، خاکسار میں وقت ارشاد ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائے گا۔جناب درد صاحب نے فرمایا حضور کا ارشاد ہے۔تم نہایت اہم فرض کی