تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 478 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 478

بنا پر کریں جوکشن کے روبہ دو پیش کیا جائے اور جو کشن آپ کی خدمت میں ارسال کرے۔اس پرواز سے جو تاثر آپ حاصل کریں گے اس کا علم کش کو کیسے ہو گا ؟ اس پر سر سیرل نے کہا۔مجھے اس غرض کے لئے ہو ہوائی جہاز نہیا کیا گیا ہے وہ فوجی نوع کا ہے اور اس میں زیادہ گنجائش نہیں۔لیکن اگر آپ پسند کریں تو آپ میں سے دو اراکین میرے ساتھ مل سکتے ہیں چنانچہ طے ہوا کہ منیر اور تیجا سنگھ آج صبح ریڈ کلف کے ساتھ جائیں۔ان کی روانگی آج صبح سات بجے والٹن کے ہوائی میدان سے تھی۔جب یہ سب وہاں جمع ہوئے تو پائیلٹ نے کہا۔صاحبان آپ دیکھتے ہیں کہ آسمان گرد آلود ہو رہا ہے۔میں آپ کو لے تو چلتا ہوں لیکن گرد کی وجہ سے اوپر سے آپ کو کچھ نظر تو آئے گا نہیں محض آپ کا وقت ضائع ہوگا۔اس پر ریڈ کلف نے پرواز منسوخ کر دی۔وہاں سے چلتے وقت منیر نے پائلٹ سے کہا۔اگر مطلع صاف ہوتا تو تم نہیں کہاں لے جانے والے تھے ؟ اس نے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اور ایک پرند کاغذ نکال کر منیر کے حوالے کیا اور کہا یہ تھیں میری ہدایات ، ان سے تم خود اندازہ کر لو۔میردہ پر زہ لے آیا اور مجھے دکھایا۔اس میں درج تھا، مشرق کی طرف بنا کہ دریائے راوی کے اس مقام کے اوپر پہنچو جہاں دریا پہاڑی علاقے سے نکل کر میدان میں بہنا شروع کرتا ہے۔وہاں سے دریائے راوی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے فلاں مقام تک آؤ جو ضلع لاہور میں ہے۔وہاں سے دریا کو چھوڑ کر بائیں جانب ہو جاؤ اور فلاں سمت میں دریائے ستلج کے پار تک پرواز کر کے فلاں مقام کے اُوپر سے کوٹ کمانے ہور واپس آجاؤ۔میں اس کا نہ کو دیکھنے کے وقت سے نہایت پریشان ہوں۔مجھے یقین ہے کہ جو لائن اس کا غذ میں درج ہے وہی حد بندی کی لائن ہے اور یہ طے شدہ بات ہے۔اب تم تو اپنا تحریری بیان داخل کرو گے اور اجلاس عام میں بحث کرو گے تمہارا موقف واضح ہوگا اور ہر شخص اس کا اندازہ کر لینگا ہارا کام میں پردہ ہو گا۔جب حد بندی کا اعلان ہوگا تو مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوگا اور وہ منیر کو اور مجھے ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور مورد الزام کریں گے۔چنانچہ ہم دونوں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں آج رات دتی جاؤں، اور کل صبح قائد اعظم سے مل کر یہ سارا ماجرا انہیں سُناؤں اور ان سے اجازت طلب کروں کہ منیر اور میں کشن سے مستعفی ہو جائیں۔اس کے بعد قائد اعظم جیسے بن پڑے اس گھی کو سلجھائیں۔ظفر اللہ خان۔اس بات پر تو مجھے آپ کے ساتھ اتفاق ہے کہ اس واقعہ سے یہ ظاہر ہے کہ صد بندی کی تعیین پہلے سے ہو چکی ہے اور یہ باقی تمام کاروائی محض غریب رہی ہے اور میں آپ کی پریشانی میں بھی شریک