تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 451 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 451

۴۳۹ دوسرے امور کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔اس سلسلہ میں اگر سرحدات کی تعیین کے بارے میں کوئی عمولی ردوبدل کی ضرورت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ ایسا نہ ہو کہ کسی علاقے کی آبادی کا کثیر حصہ جو اکثریت والے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تبدیل کر کے ایسے علاقے میں ڈال دیا جائے۔جہاں وہ اقلیت میں رہ جائیں بچنا نچہ کشن کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے اس امر پر خاص زور دیا گیا ہے:۔کمشن کا کام یہ ہو گا کہ وہ پنجاب کے دونوں حصوں کی سرحدات کو معین کرے۔حدود کی تعیین کی بنیاد اس اصول پر ہو کہ مسلم " اور غیر مسلم اکثریت والے علاقوں کی حدود ان دونوں حصوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملتی ہوں۔اس غرض کے لئے بعض دوسرے امور کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے" باؤنڈری کشن کے دائرہ کار اور اس کے قیام کے مقصد سے یہ بات واضح ہے کہ کمشن اس امر کی تعیین کرے گا کہ وہ کون سے علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہ کونسے علاقے ہیں جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہے اور پھر یہ بھی کہ ان علاقوں کی سرحدات پنجاب کے دونوں حصوں سے کہاں کہاں ملتی ہیں ہا جب ایک مرتبہ ان سرحدات کی تعیین ہو جائے تو پھر تقسیم کا خط کھینچنا آسان ہوگا۔مگر اس خط کھینچنے سے پہلے ضروری ہے کہ بعض دوسرے امور کو بھی ملحوظ رکھا جائے کیونکہ ان امور کے پیش نظر ہو سکتا ہے کہ کہیں کہیں کچھ معمولی ردوبدل کی ضرورت پڑے اور اعلان میں اس امر کی پوری گنجائش رکھی گئی ہے کہ اگر عدل و انصاف کے تقاضوں کے ماتحت سرحدات میں کہیں معمولی ردوبدل کی ضرورت ہو تو اس پر عمل کر لیا جائے۔اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ معین طور پر علاقوں کی تقسیم کا سوال صرفت تبھی پیدا ہوتا ہے ، جب "اکثریت والے علاقوں" کی تعیین مکمل ہو جائے اور اس امر کی صراحت ہو جائے کہ ان علاقوں کے قرب سے کیا مراد ہے۔یعنی وہ کونسا اصول ہے۔جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ خلال اکثریت والا علاقہ " فلاں وجہ سے قُرب " کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اُسے پنجاب کے فلاں حصے کے ساتھ شامل کر دیا جائے۔ظاہر ہے کہ باؤنڈری کمشن کو اس لفظ کی مکمل تعریف اور توضیح کرنی پڑے گی۔کیونکہ صرف اسی تعریف کی بناء پر ہی کش متذکرہ علاقوں کی شمولیت کا فیصلہ