تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 452
۴۴۰ کر سکتا ہے۔البتہ جب ایک دفعہ ہمارے سامنے معین طور پر اس لفظ کی تشریح، آجائے تو پھر ایڈی آسانی سے ہم ۹ہ کی مردم شماری کی بناء پر ان اکثریت والے علاقوں کے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔اس مقام پر یعنی جہانتک الفاظ کی تشریح اور توضیح کا سوال ہے دوسرے امور کو بیچ میں لانا ہرگزنہ مناسب اور ضروری نہیں ہوگا۔دوسرے امور پر غور کرنے کا معاملہ صرفت اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب عملاً سرحدوں کی تعیین کا کام شروع ہو جائے اور ابتدائی امور کلی طے ہو جائیں۔۔اب کمشن نے یہ دیکھنا ہے کہ اکثریت والے علاقوں کے " قرب " سے کیا مراد ہے ؟ اگر صوبائی وحد کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تمام پنجاب کا علاقہ اور تمام بنگال کا علاقہ مسلم اکثریت والے علاقے" ہیں کیونکہ واضح طور پر ان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔مگر چونکہ ان دونوں صوبوں کی اندرونی تقسیم کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اس لئے ہمیں چھوٹے پیمانے پر ایک اور معیار مقرر کر نا پڑے گا تقسیم کے فیصلہ کے وقت ایک خیال یہ بھی تھا کہ ہم ضلع " کو معیار مقرر کر لیں اور اسی بناء پر اکثریت والے علاقے طے کرلیں۔اگر یہ خیال قطعی اور آخری ہوتا تو باؤنڈری کمیشن کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ تمام ضلعوں کی حدود شخص کو معلوم ہیں اور اس بناء پر اکثریت والے علاقے طے کئے جاسکتے تھے۔لیکن کشن کے ذمہ کام یہ ہے کہ وہ نہ صرف اکثریت والے علاقوں کو معین کرے بلکہ پنجاب کے دونوں حصوں کے ساتھ اُن اکثریت والے علاقوں کی ملحق سرحدات کا مسئلہ بھی طے کرے یعنی یہ واضح کرے کہ فلاں علاقے کے "قرب" کی وجہ سے وہ علاقہ یا خطہ اس قابل ہے کہ اُسے پنجاب کے فلاں حصے کے ساتھ شامل کیا جائے۔ظاہر ہے کہ کمشن کو اس مقصد کے حصول کے لئے تقسیم کا ایسا معیارہ قائم کرنا پڑے گا جس سے پنجاب کے دونوں حصے جو دو علیحدہ علیحدہ صوبوں کی حیثیت سے کام کریں گے آزادانہ طور پر اپنے اپنے فرائض سر انجام دے سکیں۔اس مقصد کے لئے یہ بھی ضروری ہوگا کہ حدود کی تعیین اور سرحدی لائن کا قیام اتنا مکمل ہو اور ایسا قابل عمل ہو کہ دونوں صوبے عمدہ پڑوسیوں کی طرح اپنی اپنی انتظامی ذمہ داریوں کو نبھا سکیں اور خوش اسلوبی کے ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون کر سکیں۔ایسا نہ ہو کہ یہ سرحدی لائن محض ایک تخیل کا کرشمہ ہو یا ایک نقاش کے موٹے قلم کی طرح آڑھی ترچھی ہوتی ہوئی کسی ایک گاؤں کے پیٹ میں سنے تو گزر جائے اور دوسرے کو بالکل ہی ادھ موا چھوڑ دے کمشن کو ہر حالت میں ایک انتظامی یونٹ“ بنانا پڑے گا جس