تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 430
NIA میں اپنے بیان اور دلائل کو صرف اس معین معاملہ تک محدود رکھنا چاہتا ہوں کہ قادیان کو درجو جماعت احمدیہ کا مرکز ہے، مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔جناب سر محمد ظفر اللہ خال صاحب جو مسلم لیگ کی طرف سے سینٹر وکیل اور مختار اعلیٰ ہیں آپ کے سامنے ان امور پر بحث فرمائیں گے جو جغرافیائی ، اقتصادی اور بعض دوسری بنیادوں پر غیر مسلموں کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ضلع گورداسپور کا معاملہ بھی ان اضلاع میں سے ہے جن کے متعلق اس کمشن کے سامنے بڑی سرگرمی سے بحث ہوتی رہی ہے۔لیکن جماعت احمدیہ اور مسلم لیگ کے مابین بعض پہلو مشترک ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے اُن کا ذکر ہیں اس لئے چھوڑ رہا ہوں کہ جب سر محمد ظفراللہ صاحب مسلم لیگ کا موقف آپ کے سامنے پیش کریں گے تو اس بحث میں وہ امور اور مشترک پہلو لازماً آجائیں گے۔اب جیسا کہ میں نے کمشن کا دائرہ کار اور اس کے مقاصد آپ کے سامنے پڑھ کر سُنائے میں کمشن کا کام یہ ہے کہ وہ مغربی اور مشرقی پنجاب کے درمیان ان حدود کی تعیین کرے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے اکثریت والے علاقوں کی بنیاد پر حد فاصل کے طور پر کام دے سکیں۔۔ایسا کرتے ہوئے نہیں لاز ما فیض دوسرے عناصر کو بھی ملحوظ رکھتا پڑے گا۔چنانچہ حدود کی تعیین کے نہایت اہم مقصد کے پیش نظر میں پڑے ادب کے ساتھ یہ بنیادی اور مرکزی اصول آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ " آبادی کی اکثریت ہی دراصل وہ بنیاد ہے جس پر حدوں کی تعیین منحصر ہے۔باقی تمام امور کسی نہ کسی رنگ میں اسی ایک بنیادی اصول کے ماتحت آجاتے ہیں۔اور اسی بنیادی اصول کو میں اپنے اس دعوی کی بنیاد قرار دیتا ہوں کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔سب سے پہلی بات جس سے اس دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ قادیان اس علاقے میں شامل ہے جو مسلم آبادی کی اکثریت والا علاقہ ہے اور جس کی سرحدیں مغربی پنجاب کے اصل علاقے سے ملتی ہیں۔اس غرض کے لئے میں آپ کی خدمت میں وہ نقشہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ میمورنڈم کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔آپ اس میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ تحصیل بٹالہ جسے سبز رنگ دے کر مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ دکھایا گیا ہے اس میں قادیان شامل ہے۔پھر جو عام مسلم اکثریت والا علاقہ ہے اس کے ساتھ ہی تحصیل بٹالہ کی حدود ملتی ہیں۔آپ خواہ تقسیم کے کسی اصول کی