تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 431 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 431

۴۱۹ بنیاد پر اس کو ملاحظہ فرمائیں۔یعنی خواہ تحصیل یا ذیل کے علاقے کے طور پر یا تھانے اور قانونگو کے حلقہ کے طور پر۔آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ علاقہ بہر حال مسلم اکثریت والے علاقے میں شامل ہے اور قادیان جغرافیائی طور پر یہ صورت اسی مسلم اکثریت والے علاقے میں ہی واقع ہے ہیں تو کہوں گا کہ اور سب باتوں کو بجانے دیجئے، صرف یہی دلیل کہ قادیان اُس علاقے میں شامل ہے جو مسلم آبادی کی اکثریت والا علاقہ ہے اور جبیں کی سرحدیں اس علاقے کے ساتھ بالکل متصل ہیں جو مغربی پنجاب کا اصل علاقہ ہے، یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ قادیان کو مغربی پنجاب کے ساتھ شامل ہونا چاہئیے۔مگر اس کے علاوہ بعض اور پہلو بھی قابل غور ہیں چین سے مندرجہ بالا دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے تحصیل اجنالہ اور تحصیل نارووال کے علاقے تحصیل بٹالہ کے ساتھ بالکل ملے ہوئے ہیں اور ضلع گورداسپور کی تمام تحصیلوں میں صرف تحصیل بٹالہ ہی ایسی تحصیل ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہایت نمایاں اور واضح ہے۔یہاں مسلمانوں کی آبادی ۵۵۱۶ فیصدی ہے تحصیل نارووال میں مسلم آبادی ۵۴۱۹۳ فیصد می ہے اور تحصیل اجنالہ میں ۴۶ ۵۰۱ فیصدی ہے۔یہ تمام اعداد و شمار سرکاری ہیں اور آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ تحصیل بٹالہ کے ساتھ ملنے والی دونوں تحصیلوں میں مسلم اکثریت ہے۔پس اگر اکثریت والی تحصیلوں کی باہمی سرحدات کو ہی بنیاد قرار دیا جائے تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ قادیان جو تحصیل بٹالہ میں واقع ہے اور جس میں واضح طور پر مسلمانوں کی اکثریت ہے مغربی پنجاب کے ساتھ شامل ہونے کا پورا حق رکھتا ہے۔میں نہایت ادب سے عرض کروں گا کہ فریق مخالف کے وکلا رنے آپ کا خاصا وقت صرف میں بحوث میں صرفت کیا کہ بعض دوسرے عناصر ہیں جن پر غور کیا جانا ضروری ہے مگرمیں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تقسیم اور مدد کی تعیین کا معاملہ صرف اور صرت آبادی کی اکثریت پر منحصر ہے۔مخالف و کلار "اکثریت والے علاقوں کی متصل سرحدات " پر تو بحث کرتے رہے لیکن جسٹس محمد منیر: کیا آپ نے اس نقطہ نظر بھی غور کیا ہے جس کی بناء پر آپ کے مخالف وکلا ر نے اُس علاقے کو مسلم اکثریت والا علاقہ " قرار نہیں دیا جسے آپ مسلم علاقہ " کہہ رہے ہیں۔اس کے تعلق آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ شیخ بشیر احمد جناب والا! مجھے علم ہے کہ اس علاقہ میں کچھ تھوڑا سا حصہ غیر مسلموں سے بھی آباد ہے