تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 429
۴۱۷ اپر باری دوآب کی نہر سے اُوپر کی طرف واقع ہے مسلم لیگ کی تجویز کے مطابق کاٹ کو مشرقی پنجاب کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔اسی طرح ضلع گورداسپور کے بقیہ حصہ میں مسلم اکثریت جو پہلے ہی منقول ہے اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔و جو اعداد و شمار صدر صاحب کے سامنے بغیر ہمارے علم میں آئے پیش کئے بھائیں وہ ہمیں بھی دکھائے جائیں کیونکہ کمیشن کے سامنے یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ جو اعداد و شمار اس وقت افسران نے تیار کئے ہیں وہ تحقیق پر غلط ثابت ہوئے ہیں چنانچہ لاہور کے غیر مسلم زمینداروں کی تعداد غلط ثابت ہوئی۔اسی طرح گورداسپور کے غیر مسلم زمینداروں کے اعداد و شمار تلفظ امان ہو چکے ہیں۔اسی طرح شیخو پورہ کی دو قبیلوں کی غیر مسلم آبادی زیادہ بتائی گئی تھی یہ بھی تحقیق پر غلط ثابت ہوئی۔یہ سب اعداد و شمار سہندو افسروں نے تیار کئے تھے۔پس ہو سکتا ہے کہ کوئی پرائیویٹ نقشہ یا اعداد و شمار ہو پریذیڈنٹ تیار کر وائے اس کے سامنے غلط نقشہ یا اعداد و شمار پیش کر دیئے بھائیں۔پس ایسا نقشہ یا اعداد و شمار ہمیں دکھا لینے چاہئیں تاکہ ہم اپنا اعتراض پیش کر سکیں۔جماعت احمدیہ کے موقف کی وضاحت حد بندی کمیشن کے سامنے اور جولائی سے لے کر جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ کی طر سے سرجانی تک پہلے سٹریس سواد ربمبئی کے مشہور بیرسٹر) نے ہندوؤں کے نقطہ نگاہ کی ۲۴ وضاحت کی۔پھر سردار ہرنام سنگھ صاحب نے سکھوں کا کیس پیش کیا۔۲۵ جولائی سے لے کر ہر جولائی تک کے اجلاس مسلم لیگ کے لئے مخصوص رہے مسلم لیگ کی ہائی کمان نے اپنے وقت میں سب سے پہلے جناب شیخ بشیر احمد صاحب بی۔اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائی کورٹی لاہور کو جماعت احمدیہ کا خوف پیش کرنے کا موقعہ دیا۔جناب شیخ صاحب موصوف نے ۲۵ اور ۲۰۱۶ جولائی کے اعلاسوں میں نہایت عمدگی اور قابلیت سے جماعت احمدیہ کی نمائندگی کی جس کی تفصیل باؤنڈری کمیشن کے انگریزی ریکارڈ میں محفوظ ہے۔آپ کی اس یادگار، اور نا قابل فراموش بحث کا مکمل اردو ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔۲۵ جولائی ۱۹۴۷ مد اس کے بعد مکرم شیخ بشیراحمد صاحب ایڈووکیٹ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش ہوئے۔آپ نے فرمایا۔