تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 418 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 418

5-y شامی بیرسٹر دینی تعلیم کے لئے موجود ہیں۔ایک جرمن سابق فوجی افسر عنقریب قادیان میں بطور مسلم مشنری ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے آرہے ہیں۔اسی طرح امریکہ ، سوڈان اور ایران سے بھی نیم بائع دینی تعلیم کے لئے قادیان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس سے پہلے بھی انڈونیشیا، افغانستان ، چین اور افریقہ سے طالب علم ہمارے مرکز میں آئے ہیں۔اس لئے قادیان کو سبو مقام مذہبی مرکز ہونے کی حیثیت سے حاصل ہے وہ بہت بلند ہے۔اگر مذہبی مقامات" دیگر امور میں شامل ہیں تو بلاشک شتبہ قادریان کا نمبر اول ہے۔۲۔تحریک احمدیت کے سہندوستان میں ۷۴۵ مقامی مراکز ہیں حسین میں تے ۵۴ یعنی ۴ ، فجر کے قریب پاکستان میں واقع ہیں (ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر ۲) اس لئے قادیان کو مغربی پنجاب سے جدا کرنا تحریک کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ہوگا۔تحریک احمدیت کے مقدس بانی قادیان میں پیدا ہوئے اور اکثر کتابیں جو انہوں نے اپنی تعلیم کی اشاعت کے لئے لکھیں ، اردو زبان میں ہیں۔آپ کی بعض کتابیں عربی اور فارسی میں ہیں بہندوست کی حکومت نے پہلے سے ہی اُردو کو ختم کر دینے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔سہندوستان ریڈیو جو زبان استعمال کر رہا ہے وہ ابھی سے ایسی ہے کہ ایک عام مسلمان کی سمجھ سے بالا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد یہ زبان اردو بولنے والوں کے لئے بالکل اجنبی ہو جائے گی۔اگر قادیان کا الحاق مشرقی پنجاب سے کر دیا گیا تو اس کا مطلب ان دو میں سے ایک ہوگا۔یا تو قادیان احمدیوں میں اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے لئے بعد دو جہد کو جاری رکھے اور اس طرح اپنے نوجوانوں کو گورنمنٹ کی مان نہیں حاصل کرنے سے محروم کر دے اور اپنے افراد کو صنعت اور تجارت میں ترقی کرنے سے روک دے یا قاریان اُردو کو خیر باد کہہ دے جس میں سلسلہ کا مذہبی لٹر پھر ہے اور اس طرح اپنے مذہبی مستقبل کے لحاظ سے خود کشی کر لے سلسلہ احمدیہ کے لئے ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بھی قابل قبول اور ممکن نہیں نہ کوئی معقول انسان ان کو قبول کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔علاوہ ازیں سلسلہ احمدیہ کی ہندوستان سے باہر بیسیوں شاخیں ایسی ہیں جو قدرتی طور پر پاکستان سے زیادہ گہرے تعلقات کی خواہاں ہوں گی۔پیشتر اس کے کہ ہم اگلا امر پیش کریں یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جہاں سکھ قوم کا مطالبہ کہ اُن