تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 419 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 419

کردم کی کھیتی کو تحفظ دیا جائے۔اکثریتی علاقے کے طے شدہ اصول کے خلاف ہے بہار یکجہتی کے تحفظ کا معام اس اصول کی تائید میں ہے۔احمدیوں کا صرف ایک ہی کالج ہے اور وہ قادیان میں واقع ہے۔اگر قادیان کو مشرقی پنجاب سے ملا دیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ایک مملکت کے ایک فرقے کے طلباء کی اکثریت کو دوسری مملکت میں واقع کالج میں تعلیم حاصل کرنا پڑے گی۔یہ امر نہایت ہی نقصان دہ ہوگا اور مثبت طور پر طلبا اور ادارہ سے کے معیار کو تباہ کرنے کا موجب ہوگا۔- تحریک احمدیت کے مقدس بانی کا یہ ارشاد ہے کہ احمدیہ فرقے کا مرکز ہمیشہ قادیان ہوگا۔اس لئے نہ تو جماعت کے لئے اور نہ ہی موجودہ امام کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ جماعت کے مرکز کو قادیان سے کسی اور جگہ منتقل کریں۔- اس تحریک کے مقدس بانی قادیان کی سرزمین میں مدفون ہیں۔بعض انتظامات کے ماتحت جن کا بیان کرنا یہاں غیر ضروری ہے سلسلہ کے سر کہ وہ افراد کی نعشیں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے یہاں دفن کرنے کے لئے لائی جاتی ہیں۔اس لئے احمدیوں کے لئے اپنے مرکز کو قادیان سے کسی اور جگہ لے جانا ممکن نہیں ہے۔-A متعدد مقدس عمارتیں اور یادگاریں قادیان میں موجود ہیں اس لئے بھی احمدی اپنا مرکز تبدیل نہیں کر سکتے۔اس فرقے کی جائیداد کا قریباً 9 بر مغربی پنجاب اور پاکستان میں واقع ہے اور اگر قادیان کو • ساخن مشرقی پنجاب سے ملا دیا جائے تو اس جماعت کے مرکز کو مالی وسائل کے اعتبار بیحد نقصان پہنچے گا۔9 ہندوستان کے مسلمانوں کی والدہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان میں ہے۔پس اگر قادیان کو شرقی پنجاب سے ملا دیا گیا تو یہ دیگر مسلمانوں کے لئے گھوٹا اور احمدیوں کے لئے مخصوص تباہ کن اقدام ہوگا۔- بعض وقته ودار انگریز حکام کے بیانات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ " دیگر امور کے الفاظ خاص طور پر سیکھوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں جنہوں نے حکومت انگریزی کی بڑی خدمات سرانجام دی ہیں۔لیکن اگر دونوں جماعتوں کی تعداد کو مد نظر ر کھا جائے تو اگرچہ احمدیوں کی تعداد سیکھوں سے بہت تھوڑی ہے۔لیکن انہوں نے جو بے لوث خدمت دونوں عالمگیر جنگوں میں -|