تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 408
کی خدمت کے صلہ میں دیئے گئے تھے کیونکہ یہ فوجی مقدمات کا معاوضہ تھا۔اب جبکہ ہندوستان کی تقسیم ہو چکی ہے مغربی پنجاب یہ حق رکھتا ہے کہ وہ ہندوستان سے ان زمینی عطیہ جات کے نقد معاوضے کا مطالبہ کرے۔ہندوؤں کے قبضے میں آج زمینیں ہیں۔یہ ہندو ساہوکاروں کے سودی کاروبار اور ان کی موسے بڑھی ہوئی شرح سود کا نتیجہ ہیں جو وہ زمینداروں کو قرض دے کر وصول کرتے تھے۔ہمارے اس دعوے کی تصدیق پنجاب کی عدالتوں کے ریکارڈ سے ہو سکتی ہے۔کئی مثالیں ایسی ہیں کہ چالیس یا پچاس روپیہ اصل زر کا معمولی قرضہ آخر کار بیچارے زمیندار کی ہزاروں روپے کی زمین سے محرومی کا بات ہو گیا۔زمینداروں کی اس زبوں حالی کو دور کرنے کے لئے حکومت پنجاب نے اور اس کے بعد دوسری صوبائی حکومتوں نے قانون انتقال اراضی پاس کئے لیکن ان قوانین کا اطلاق ماضی پر نہ ہوا۔اس لئے جو زمینیں ہندو ساہوکاروں کے قبضے میں چلی گئی تھیں وہ اصل مالکوں کو واپس نہ مل سکیں۔اب پرانی بے انصافی کی بناء پر نئی بے انصافی کی جا رہی ہے۔کیونکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ زمین جو ہندوؤں کے ہاتھوں میں ان کے قابل اعتراض سودی کاروبار کے نتیجہ میں چلی گئی تھی انہیں یہ حق دلاتی ہے کہ وہ مسلمانوں سے مزید ان کے علاقے حاصل کر لیں۔مختصر یہ ہے کہ کوئی مطالبہ جو مشرقی پنجاب والے مغربی پنجاب سے زمین کے حقوق یا تعلیمی برتری کی بنا پر کریں وہ اس اصول ہی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے مہندوستان کو بھارت اور پاکستان میں تقسیم کیا گیا ہے۔بونڈری کشن کا کام یہ نہیں کہ اس اصول کو بدلنے کی سعی کرے بلکہ اس کی غرض ہیں اصول کو منصفانہ طور پر عملی جامہ پہناتا ہے۔ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دیگر امور " سے مراد بجائداد اور اس قسم کی اور چیزیں نہیں تو پھر ان سے کیا مراد ہو سکتی ہے اور ان کے کیا معنی ہیں ؟ ہمارے خیال میں اس فقرے کا مطلب معلوم کرنے کے لئے ہمیں کمشن پر عائد کردہ فرائض کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔چنانچہ اس کے فرائض میں واضح طور پر درج ہے کہ بونڈری کمشن کو یہ ہدایت ہے کہ وہ دونوں پنجابوں کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ملحقہ اکثریت والے علاقوں کی تحقیق کی بناء پر حد بندی کرے۔ایسا کرنے کے لئے وہ دیگر