تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 407 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 407

۳۹۵ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ غیر مسلموں کا تفوّق صرف اس وجہ سے ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان میں وارد ہونے کے وقت غیر مسلموں نے حصول دولت اور اقتصادی برتری کے تمام سرکاری وسائل اور اداروں پر قبضہ کر لیا۔انگریزوں سے پہلے مسلمان ہندوستان کے حکمران تھے۔انگریزوں نے ملک مسلمانوں سے لیا۔لارڈ کرزن کے زمانہ تک انگریزوں کی یہ پالیسی رہی کہ مسلمانوں کو کمزور رکھا جائے۔لارڈ کرزن نے پہلی مرتبہ یہ سوال اٹھایا کہ کیا ایسا کرنا جائز اور درست ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ لارڈ کرزن کو الی آواز کے اُٹھانے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا کہ ایسے اور انگریز بھی موجود تھے جو حق اور انصاف کی حمایت میں اپنی ذاتی شہرت اور ترقی کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنی ہی حکومت کی پرانی انتظامی روایات اور حکمت عملی کی مخالفت کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔پس اقتصادی اور تعلیمی میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی گورنمنٹ کی پالیسی اور سیاسی اغراض کا نتیجہ تھی۔اب یہ وقت آیا ہے کہ نہیں ان محرومیوں اور دشواریوں سے نجات دلائی جائے۔لیکن اس کی بجائے تجویز یہ ہو رہی ہے کہ جو کچھ ان کے قبضہ میں باقی رہ گیا ہے وہ بھی کسی نہ کسی بہانے ان سے چھین لیا جائے۔سیکھوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں پنجاب کی نہری نو آبادیات میں ( ان کی ملکیت میں یہ ترسی کی بنار پیا زائد رقبہ دیا جائے۔اس کی تردید بھی ہمارے مندرجہ بالا جواب سے ہو جاتی ہے۔شہری آبادیاں سرگودھا، لائل پو متشکری، شیخو پورہ ملتان کے اضلاع میں ہیں۔نہروں کی کھدائی سے پہلے ان لوگوں میں ہو یہاں آکر آباد ہوئے تھے بمشکل در فیصدی غیر مسلم تھے۔اس لئے یہ علاقے مسلمانوں کے تھے قلیل آبادی کی وجہ سے یہاں کے مقامی باشندے زمینوں کے کثیر حصے کو اپنے مویشیوں کی چھرا گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے کیونکہ پانی کی قلت کی وجہ سے تمام زمین زیر کاشت نہیں نائی جا سکتی تھی۔نہروں کی تعمیر کے موقعہ پر گورنمنٹ نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ چونکہ زمینیں ویران ہو گئی تھیں اس لئے اب وہ حکومت کی ملکیت ہو گئی ہیں۔اپنی مقبور زمینوں میں سے کچھ زمین سکھوں کو ان کی خدمات کے عوض گورنمنٹ نے مفت عطا کر دی اور کچھ علاقے بدایوین خریداروں کے پاس بیچ دیئے گئے۔اس طرح سے زمین کا ایک معتد بہ حصہ سکھوں کی ملکیت میں چلا گیا۔اس سے زیادہ نا انصافی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ زمین جو مسلمانوں کی تھی وہ تو غیر مسلموں کے حوالہ کر دی گئی اور اب مسلمانوں کو اس بناء پر اُن کے آبائی علاقوں سے محروم کیا جاتا ہے کہ غیر مسلموں کے پاس اُن سے زیادہ زمین ہے۔ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ عطیہ جات مرکز کی حکومت