تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 409 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 409

۳۹۷ امور کو بھی مدنظر رکھیں گے“ مندرجہ بالا الفاظ سے ظاہر ہے کہ دیگر امور سے مراد وہ امور ہیں جو اس وقت ظاہر ہوں گے جبکہ کمشن بعد بندی کرے گا اور فرقہ وار اکثریت والے علاقوں کی تعیین کرے گا۔اس لئے دیگر امور سے مراد بھانڈا دیا اسی قسم کی اور چیزیں نہیں ہو سکتیں نہ ہی وہ اکثریت کے حقوق کی نفی کر سکتا ہے۔ان سے مراد صرف وہ مطالبات یا قابل غور باتیں ہیں جن کا مدیندی کی معمولی تفاصیل طے کرتے وقت خیال رکھا جا سکتا ہے۔ہمارے ذہن میں اس کی چند مثالیں بھی ہیں۔مثلاً اگر کسی ایک فرقے کا اکثریت والا بڑا علاقہ اقلیت کے دیہات کے تنگ بھلتے میں ہے تو ایسی حالت میں کمشن کے لئے یہ بھائز ہوگا کہ یہ فیصلہ دے کہ اگر چہ ایک مخصوص آبادی نے دوسرے فرقہ کی بڑی آبادی کے گرد حلقہ ڈال رکھا ہے یہ تنگ حلقہ دوسرے فرقہ کے اکثریت والے وسیع رقبہ کو اس کی زیادہ آبادی والے علاقے سے ملحق کر دیا جائے۔یا ایک اور مثال لیجئے : ایک وسیع علاقہ جس میں کسی ایک فرقہ کی اکثریت آباد ہے اپنے فرقے کی اکثریت والے علاقے سے ایک ایسے چھوٹے سے علاقے سے جدا ہوتا ہے جس میں دوسرے فرقے کے لوگ آباد ہیں تو اس صورت میں ایک بڑی آبادی کی وحدت کے راستے میں چھوٹا علاقہ روک نہ بن سکے گا۔ایک تیسری مثال بھی ہے۔یعنی فرض کریں کہ سرحد پر ایک ایسا قصبہ آ جاتا ہے جس کے متعلق جھگڑا ہے تو اس صورت میں ہماری رائے یہ ہے کہ اس قصبہ کی آبادی کی اکثریت پر فیصلہ ہونا چاہیئے۔باونڈری کمیشن نے عام طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ قصبہ تعلیمی اور سماجی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔برب کسی کے مفاد اور ملحقہ دیہاتی علاقے کے مفاد میں تصادم ہو تو اس صورت میں قصبے کے مطالبات کو تہ بیج ہوگی۔دیگر امور کی آخری اور چوتھی مثال جیسے کمشن کو آبادی کے علاوہ مد نظر رکھنا ہوگا یہ ہے کہ اگر ایک فرقہ کی آبادی کا تسلسل اس وجہ سے ٹوٹ جائے کہ بیچ میں دوسرے فرقے کا علاقہ آجاتا ہے ہو بہت بڑا نہ ہو اس علاقہ کے پہرے نزدیک ہی اکثریت والے فرقے کا کوئی مذہبی مرکز واقع ہو تو اس صورت میں یہ درست نہ ہوگا کہ اس مذہبی مرکز کو اس فرقہ سے صرف اس وجہ سے بعدا کر دیا جائے کہ درمیان میں ایک چھوٹا سارقیہ دوسرے فرقے کا آجاتا ہے۔اس سلسلہ میں یہ بات بھی قابل غور ہے