تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 406 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 406

۳۹۴ میں بھی جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے زمینیں، ٹھیکے اور تعلیم کے لئے حکومت کی طرف سے مالی عطیات غیر مسلموں کو ہی ملتے ہیں۔مسلمانوں کے پاس ترقی کے کوئی راستے باقی نہیں رہے۔اس لئے مسلمانوں کے مفاد کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان کے اکثریت والے علاقوں کو ملک کے باقیماندہ حصے سے بعدا کیا جائے تاکہ وہ اس قابل ہوں کہ اپنی ترقی کے منصوبے بنائیں اور اپنی قسمت کا آپ فیصلہ کریں۔سالہا سال کے تصادم اور کشمکش کے بعد انگریزی حکومت اور ہندو کانگریس نے مسلمانوں کے اس مطالبہ کو قبول کیا ہے۔اب وہی دلیل جس کی بناء پر مسلمانوں کو اکثریت والے علاقوں میں علیحدہ رہنے کا حق دیا گیا ہے۔اس بات کے لئے استعمال نہیں کی جانی چاہیے کہ ان کے علاقوں میں سے کچھ حصے چھینے جاسکیں گے۔اگر پاکستان کا تصور یہ تھا کہ مسلمانوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی سیاسی اور اقتصادی زندگی کے نقصانات کی تلافی کر سکیں اور اگر تقسیم کا خیال جیسے انگریزی حکومت اور کانگرس دونو نے تسلیم کیا ہے درست ہے تو پھر جائداد اور اقتصادی حالت کی فوقیت کی بناء پر مسلمانوں کے علاقوں کی تقسیم کی کوشش پاکستان کے نظریہ کو کالعدم قرار دینے کے مترادف ہے اس لئے ایسی تقسیم بنیادی طور پر غلط ہونے کی بناء پر رد کر دینے کے قابل ہے۔کانگریس متنازعہ فیہ مسئلے میں سب سے اہم فریق مخالف ہے لیکن کانگرس نے پہلے ہی یہ نظر یہ تسلیم کو لیا ہے کہ سیاسی حقوق کے تعین میں جائیداد کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ان تمام صوبوں میں جن پر کانگریس حکمران ہے زمینداری مسلم منسوخ کیا جارہا ہے۔یوپی ، مدراس اور بہار میں اس قسم کے قوانین پاس کرائے بھار ہے ہیں جو بڑے زمینداروں کے اراضیاتی مفاد کو ضبط کرنے کے مترادف ہیں۔اگر زمینداروں کے مفادا سیاسی حقوق کے لئے پیمانہ قرار دیئے جا سکتے ہیں تو چاہئیے تھا کہ یوپی ، مدراس اور بہار میں کانگریس بڑے زمینداروں کو اسی نسبت سے زیادہ سیاسی حقوق دیتی لیکن اس کی بجائے کانگریسی حکومتیں زمینداری سسٹم کو ختم کرنے کے لئے قانون بنا رہی ہیں۔بنگال میں زمین کا بیشتر حصہ ہندوؤں کی ملکیت ہے اور اس لحاظ سے یہ صوبہ ہندوؤں کے حوالے کیا جاسکتا تھا۔مگر ایسا نہیں کیا گیا اور عرضی تقسیم میں بنگال کا بیشتر حصہ مسلمانوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے۔بفرض محال (جو بہر حال امر محال ہی ہے اگر دیگر امور " میں ایسی باتیں شامل کر لی جائیں جیسے جائیداد تجارتی مفادات ، انکم ٹیکس ، تعلیمی ترقی وغیرہ امور شامل کر لئے جائیں تو ہمیں یہ دریافت کرنا پڑے گا کہ کن حالات اور کن ذرائع سے غیر مسلموں نے زمین ، تعلیم اور تجارت میں یہ تفوق حاصل کیا ہے ؟