تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 405
۳۹۳ ہیں دیکھو پنجاب مردم شماری رپورٹ ۱۹۴۱ء) مندرجہ بالا سوال اور جواب سے یہ واضح ہے کہ کشن کسی اکثریت والے علاقے کو ملحقہ علاقے سے بُعدا کر کے کسی دوسرے علاقے سے نہیں ملائے گا اور یہ کہ اگر عارضی تقسیم سے کوئی انحراف ہوا تو اس کا فیصلہ ملحقہ اکثریت والے علاقوں کی بناء پر ہو گا اس لئے کہ وائر کے اعلان میں دیگر امور" مثلاً جائداد کی قسم کی تصریحات ہر گز شامل نہیں۔نیز اعلان میں یہ بھی فیصلہ شدہ بات ہے کہ کمیشن کسی ایسے علاقے کو جس میں ایک فرقہ کی اکثریت ہے کسی ایسے علاقے سے نہیں ملائے گا جس میں اس فرقہ کی اکثریت نہیں۔نیز ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہندوستان کے مسئلہ کے حل کے لئے اور فرقوں کے باہمی تنازعات کے فیصلہ کے لئے دیگر امور میں بجائداد اور اس قسم کی اور باتیں شامل تھیں تو کیوں اس وقت پنجاب اور بنگال کی اسمبلیوں کے یورپین ممبروں کو اپنے رسمی ووٹنگ کے حق سے محروم کیا گیا جبکہ پنجاب اور بنگال کی اسمبلیاں دستور ساز اسمبلی کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لئے منعقد ہوتی تھیں۔نیز اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کہ آیا وہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں شامل ہونا چا ہتے ہیں یا سہندوستان کی دستور ساز اسمبلی ہیں۔کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ یورپین ممبروں کی اسمبلی میں نمائندگی کی بڑی وجہ اُن کی جائداد اور اُن کے تجارتی اور صنعتی مفادات ہیں ؟ یہی وجہ تھی کہ جب بنیادی سیاسی حقوق کے فیصلے کا وقت آیا تو ان یورپین ممبروں کو جنہیں ان کی بجائداد اور ان کے اقتصادی مفادات کی بناء پر نمائندگی دی گئی مفتی اس فیصلہ کے وقت ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ کیس دستور ساز اسمبلی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی ملک کی تقسیم جائیداد کی بناء پر جائز ہے تو پھر میں سندھ کے صوبے کو بھی تقسیم کرنا پڑے گا۔اس صوبے میں بڑے بڑے زمینداروں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔مزید برآں تقسیم کے لئے اگر جائیداد جائز بنیاد ہو سکتی ہے تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کو تقسیم کرنے کی زحمت نہیں کرنی چاہیے تھی اسے ہندوؤں اور سکھوں کے حوالے کر دینا چاہیے تھا کیونکہ پنجاب میں تجارت صنعت اور تعلیم وغیرہ تقریباً تمام اُن کے قبضے میں ہیں۔اس صورت میں مسلمان کسی ایک ضلع کے لئے بھی مطالبہ نہیں کر سکتے تھے حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان یا اس کے کسی حصے کی تقسیم کا سوال محض اس لئے اُٹھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو یہ جائزہ شکایت تھی کہ غیر مسلموں کے ہاتھ میں اُن کے سیاسی حقوق محفوظ نہیں۔اس صوبے