تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 388
پراگ واس وغیرہ کے واقعات لوگوں کے سامنے ہیں اور پھر کئی جگہ بعض بے اصول ہندوؤں نے تیلی لگا کر سیکھوں اور مسلمانوں کو آگے کر دیا ہے اور بالآخر کیا سکھوں کے موجودہ حلیفوں نے بہار میں ہزار کمزور اور بالکل بے بس مسلمانوں پر وہ قیامت برپا نہیں کی تھی جس کی تباہی اور قتل و غارت کو نہ پنجا پہنچ سکتا ہے اور نہ نو اکھلی یا کوئی اور علاقہ۔پس اگر گلے شکوے کرنے لگو تو دونوں قوموں کی زبانیں کھل سکتی ہیں لیکن اگر ملک کی بہتری کی خاطر ” معاف کر دو اور بھول جاؤ کی پالیسی اختیار کرنا چاہو تو اس کے لئے بھی دونوں قوموں کے لئے اچھے اخلاق کے مظاہرہ کا رستہ کھلا ہے۔میں تو شروع سے ہی اپنے دوستوں سے کہتا آیا ہوں کہ موجودہ فسادات کا سلسلہ ایک دور سور VICIOUS CIRCLE کا رنگ رکھتا ہے۔احمد آباد کے بعد کلکتہ اور کلکتہ کے بعد نو اٹھاتی اور نو کھلی کے بعد بہار اور گڑھ کتیر اور بہار اور گڑھ مکتیسر کے بعد پنجاب وسر بعد اور اس کے بعد بعدا بجانے کیس کیس کی باری آنے والی ہے اور جتنا کوئی قوم جرات کے ساتھ اس زنجیر کی کسی کڑی کو درمیان سے توڑ نہیں دے گی اس آگ کا ایک شعلہ دوسرے شعلہ کو روشن کرتا جائے گا جبکہ یا تو یہ دونوں تو میں آپس میں لڑ لڑ کر تباہ ہو جائیں گی اور یا قتل وغارت سے تھک کر انسان بننا سیکھ لیں گی۔انتظام کی کڑی ہمیشہ صرف جرأت کے ساتھ اور عفو اور درگزر کے عزم کے نتیجہ میں ہی توڑی جا سکتی ہے ورنہ یہ ایک دلدل ہے جس میں سے اگر ایک پاؤں پر زور دے کر اُسے باہر نکالا جائے تو دوسرا پاؤں اور بھی گہرا جنس جاتا ہے۔پس اگر ملک کی بہتری چاہتے ہو تو مسلمان کو بہار اور گڑ کشمیر کو بھاتا ہو گا اور ہندو اور سکھ کو نو کھلی اور پنجاب کو۔ہاں ان واقعات سے بہت سے سبق بھی سیکھنے والے ہیں جو دونوں قومیں انتقام کے جذبہ کو قابو میں رکھ کر ہی سیکھ سکتی ہیں۔میں سیکھ صاحبان سے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ موجودہ جوش و خروش کی حالت میں اس بات کو ہر گز نہ بھولیں کہ عموما دو قوموں کے درمیان تین بنیادوں پر ہی سمجھوتے ہوا کرتے ہیں۔اول یا تو ان کے درمیان مذہبی اصولوں کا اتحاد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکٹھا رہنا چاہتی ہیں۔اور یا دوم ان کا تہذیب و تمدن ایک ہوتا ہے اور یا سوم ان کے اقتصادی نظریئے ایک دوسرے سے۔سے ملتے ہیں۔اب اگر ان تینوں لحاظ سے دیکھا جائے تو سکھ کا سمجھوتہ مسلمان سے ہونا چاہیے نہ کہ مہندو کے ساتھ۔کیونکہ