تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 387
مشرقی حصہ میں بھی ایک اقلیت ہوں گے جو وسیع ہندو اکثریت کے رحم پر ہوگی اور اکثریت بھی وہ جو صرف انہی کے علاقہ میں اکثریت نہیں ہوگی بلکہ ہندوستانی صوبوں کی بھاری اکثریت اس کی پشت پر ہوگی۔یہ ماحول کسی زندہ اور مستقل قوم کو چین کی نیند سونے دے سکتا ہے؟ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قومیں دو ہیں تو پھر ان کا موجودہ سیاسی سمجھوتہ بھی کسی اعتبار کے قابل نہیں۔کیونکہ اُسے کل کے حالات بدل کر کچھ کی کچھ صورت دے سکتے ہیں بچنا نچہ اوپر والے مضمون میں ہی ماسٹر تارا سنگھ صاحب لکھتے ہیں کہ لڑائی جھگڑے تو زمانہ کے حالات کے ماتحت ہوتے اور مٹتے رہتے ہیں۔نہ کبھی کسی قوم سے دائمی لڑائی ہو سکتی ہے اور نہ دائمی مصلح۔اب بھی ہمارا مسلمانوں کے تھے کبھی جھگڑا ہوگا اور کبھی مسلح ہوگی یہی صورت ہندوؤں کے ساتھ ہوتی ضروری ہے۔د سنت سپاہی اگست شد) اور ماسٹر تارا سنگھ صاحب کے خیال پر ہی بس نہیں ، دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ دوستقل قوموں میں اس قسم کے عارضی سیاسی سمجھوتے ہرگز اس قابل نہیں ہوا کرتے کہ ان کے بھروسہ پر ایک قوم اپنی طاقت کو کمزور کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو دوسری قوم کے رحم پر ڈال دے۔اور سکھ صاحبان تو اپنی گذشتہ ایک سالہ تاریخ میں ہی ایک تلخ مثال دیکھ چکے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ وہ پھر بھی حقائق سے آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ فسادات میں سکھوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے۔اس لئے انہیں مسلمانوں پر اعتبار نہیں رہا۔میں گذشتہ ڈھائی ماہ کی تلخ تاریخ میں نہیں جانا چاہتا مگر اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ سب جگہ مسلمانوں کی طرف سے پہل نہیں ہوئی اور زیادہ ذمہ واری پہل کرنے والے پر ہوا کرتی ہے اور فسادات تو جنگل کی آگ کا رنگ رکھتے ہیں جو ایک جگہ سے شروع ہو کہ سب حصوں میں پھیل بھاتی ہے اور خواہ اس آگ کا لگانے والا کوئی ہو۔بعد کے شعلے بلا امتیاز سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے ہیں۔میں اس دعوی کی ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ مسلمانوں نے کسی جگہ بھی زیادتی نہیں کی۔لیکن کیا سکھ صاحبان پر یقین رکھتے ہیں کہ سیکھوں نے بھی کسی جگہ زیادتی نہیں کی ؟ آخر امرتسر میں چوک