تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 389 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 389

اول تو سکھوں اور مسلمانوں کے مذہبی اصول ایک دوسرے سے بہت مشابہ ہیں کیونکہ دونوں تو میں توحید کی قائل ہیں اور ان کے مقابل پر سہندو لوگ مشرک اور بت پرست ہیں جن کے ساتھ سیکھوں کا مذہبی لحاظ سے کوئی بھی اشتراک نہیں اور اسی لئے ماسٹر تارا سنگھ صاحب نے صاف طور پر مایات ہے کہ " مذہبی اصولوں کے لحاظ سے سیکھ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں " دوسرے تہذیب و تمدن بھی مسلمانوں اور سکھوں کا بہت ملتا جلتا ہے کیونکہ دونوں سادہ زندگی رکھنے والے اور فیاض بجذبات کے مالک اور قدیم رہتا نوازی کے اصولوں پر قائم ہیں اور اس کے مقابل پر ہند و تمدن اس سے بالکل مختلف ہے۔تیسرے اقتصادی نقطہ نگاہ کے لحاظ سے بھی مسلمان اور سیکھ ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں کیونکہ دونو کی اقتصادیات کا انٹی فیصدی حصہ محاصل اراضی اور فوجی پیشے اور ہاتھ کی مزدوری سے تعلق رکھتا ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک سیکھ اور مسلمان زمیندار آپس میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ گویا وہ ایک ہی ہیں۔مگر یہ ذہنی اور قلبی اتحاد ایک ہنڈو اور سکھ کو نصیب نہیں ہوتا۔پس میں اپنے سیکھ ہموطنوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ گذشتہ واقعات کو بھلا کر اپنے مستقبل اور قطری مفاد کی طرف توجہ دیں۔دیکھو ہر زخم کے لئے خدا نے ایک مرہم پیدا کی ہے اور قومی زخم بھی بھلانے سے بھلائے جاسکتے ہیں۔مگر غیر فطری جوڑ کبھی بھی پائدار ثابت نہیں ہوا کرتے۔اگر ایک آم کے درخت کی شاخ نے دوسرے آم کی شاخ کے ساتھ ٹکرا کمہ اُسے توڑا ہے تو بیشک یہ ایک زخم ہے جسے مرہم کی ضرورت ہے۔مگر یہ حقیقت پھر بھی قائم رہینگی کہ جہاں پیوند کا سوال ہو گا آم کا پیوند آم کے ساتھ ہی قائم ہوگا دو اڑانے والے بھائی لڑائی کے باوجو بھی بھائی رہتے ہیں۔مگرد و غیر آدمی عارضی دوستی کے باوجود بھی ایک نہیں سمجھے جاسکتے ہم ہندوؤ کے بھی خلاف نہیں۔وہ بھی آخر اسی مادر وطن کے فرزند ہیں اور بہت سی باتوں میں ان سے بھی ہمارا اشتراک ہے اور ہماری دلی خواہش تھی کہ کاش سہندوستان بھی ایک رہ سکتا۔لیکن اگر ہندوستان کو مجبوراً بھنا پڑا ہے تو کم از کم پنجاب تو تقسیم ہونے سے بھی بجائے تا اسے مسلمان بھی اپنا کہہ سکیں۔