تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 386 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 386

۳۷۵ سیکھ صاحبان کا یہ خیال کہ ہندو اور ہم ایک ہیں اور اس لئے ان کے ساتھ مل کر مشرقی پنجاب میں ہماری اکثریت ہو جائے گی پہلے دھوکے سے بھی زیادہ خطرناک دھوکا ہے کیونکہ اس میں ایک ایسے پیچدار اصول کا واسطہ پڑتا ہے جس کا حل نہ ہندو کے پاس ہے اور نہ سیکھ کے پاس سوال یہ ہے کہ کیا ہندو اور سکھ ایک قوم ہیں ؟ اس سوال کے امکانا دوہی جواب ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ہاں وہ ایک قوم ہیں اور دوسرے یہ کہ نہیں بلکہ دو مختلف تو میں ہیں جن کا مذہب اور تہذیب و تمدن بعدا گانہ ہے مگران کا آپس میں سیاسی سمجھوتہ ہے۔اب ان دونوں جوابوں کو علیحدہ علیحدہ لے کر دیکھو کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔اگر سیکھ اور مہندو ایک قوم ہیں تو ان کا اس غرض سے پنجاب کو دو حصوں میں بانٹنے کا مطالبہ کہ انہیں اس ذریعہ سے ایک علیحدہ گھر اور وطن میسر آجاتا ہے۔بالبداہت باطل ہو جائے گا کیونکہ مجیب سیکھ اور ہندو ایک ہیں تو ظاہر ہے کہ مستقبل کے ہندوستان میں جتنے بھی صوبے ہوں گے وہ جبس طرح ہندوؤں کا گھرا اور وطن ہوں گے اسی طرح سیکھوں کا بھی گھر اور وطن ہوں گے۔اور اگر یہ کہو که پنجابی سکھوں کا وطن کونسا ہو گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو جب ہندو اور سکھ ایک قوم تسلیم کئے گئے تو پنجابی سیکھ کے علیحدہ وطن کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔جب سیکھ بھی ہندوستان کی وسیع ہندوبھاتی کا حصہ ہے تو ظاہر ہے کہ جب ہندو بھاتی کو وطن بل گیا تو از ماسکھ کو بھی مل گیا۔اور اس کا علیحدہ مطالبہ سراسر باطل ہے۔دوسرے اگر ہندو قوم کے ساتھ ایک ہوتے ہوئے پنجابی سکھ کو علیحدہ وطن کی ضرورت ہے تو یو پی اور بہار اور مدراس وغیرہ کے مسلمانوں کو کیوں علیحدہ وطن کی ضرورت نہیں۔حالانکہ پنجاب کے ۲۷ لاکھ سکھ کے مقابل پر یوپی کا مسلمان ۸۴ کچھ اور بہار کا مسلمان ہم لاکھ ہے۔اگر مسلمان اپنے سو کروڑ کمزور بھائیوں کو یو پی اور بہاریں ہندوؤں کے رحم پر چھوڑ سکتے ہیں تو پنجاب کے ۲۷ لاکھ سیکھ جو لقول خود بہادر بھی ہیں اور صاحب مال و زر بھی ، پنجاب کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کیوں نہیں رہ سکتے۔دوسرا امکانی پہلو یہ ہے کہ سکھ ہندوؤں سے ایک الگ اور مستقل قوم ہیں اور علیحدہ مذہب اور علیحدہ تمدن رکھتے ہیں جس کی علیحدہ حفاظت کی ضرورت ہے تو اس صورت میں سوال یہ ہے کہ پنجاب کی تقسیم ان کے لئے کو نسا حفاظت کا رستہ کھولتی ہے ؟ وہ بہر حال پنجاب کے