تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 385
اول تو یہ مطالبہ دنیا بھر کے مسلمہ سیاسی اصولوں کے خلاف ہے اور جمہوریت کا بنیادی نظریہ اس خیال کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے۔دوسرے جاندا دیں ایک آنی جانی چیز ہیں اور ان پر اس قسم کے مستقل قومی حقوق کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی جو انسانی بھانوں اور ان جانوں کے تحفظ اور ترقی سے تعلق رکھتے ہیں۔تمیرے اس سوال کو اُٹھانے کا یہ مطلب ہے کہ ملک کے نئے دور کی سیاست کی بنیاد مساوات انسانی پہ رکھنے کی بجائے روز اول سے ہی انفرادی برتری اور جماعتی تفوق اور جبر و استبداد پر رکھی جائے جس کے خلاف غریب مہندوستان صدیوں سے لڑتے ہوئے آج منا ا خدا کر کے آزادی کا منہ دیکھنے لگا ہے۔چوتھے سکھوں کی یہ جائدادیں بڑی حد تک اُن کی حکومت کے زمانہ کی یادگار ہیں جبکہ اُن میں سے کئی اک نے اولار اپنی طوائف الملوکی کے زمانہ میں اور بعدہ اپنی استبدادی حکومت کے دوران میں دوسرے حقداروں سے چھین کر ان جائیدادوں کو حاصل کیا۔تو کیا یہ انصاحت و دیانتداری کا مطالبہ ہے کہ اس رنگ میں حاصل کئے ہوئے اموال پر آئندہ سیاست کی بنیاد رکھی جائے ہم ان کی یہ جائیدادیں اُن سے واپس نہیں مانگتے۔جو مال ان کا بن چکا ہے وہ انہیں مبارک ہو مگر ایسے اموال پر سیاسی حقوق کی بنیاد رکھنا جو آج سے چند سال قبل کسی اور کی ملکیت تھے، دیانتداری کا طریق نہیں ہے۔پانچویں۔دنیا کا بہترین مال انسان کی جان ہے جو نہ نظروں نے مالوں سے افضل اور یہ تو ہے بلکہ ہر قسم کے دوسرے اموال کے پیدا کرنے کا حقیقی ذریعہ ہے۔پس جان اور نفوس کی تعداد کے مقابلہ پر پیسے کو پیش کرنا ایک ادنی ذہنیت کے مظاہرہ کے سوا کچھ نہیں۔چھٹے۔کون کہہ سکتا ہے کہ سکھوں کی جائیداد کی مالیت واقعی زیادہ ہے کیونکہ بجائیداد کی قیمت عمارتوں کی اینٹوں یا زمین کے ایکڑوں پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ بہت سی باتوں کا مجموعی نتیجہ ہوا کرتی ہے۔اور جب تک ان ساری باتوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ نہ لیا بجائے سیکھوں کا یہ دعوی کہ بہاری جائیدادیں زیادہ ہیں۔ایک عالی دعوئی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا خصوصاً جبکہ ابھی تک ایکر کروں کا صحیح قوم وانہ تناسب بھی گفتی میں نہیں لایا جا سکا۔