تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 377
کی آبادی کے کم ہو جانے کی وجہ سے وہ اس سیاسی اثر سے محروم ہو جائیں گے جو اب ان کی تائید میں ہے اور پھر اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پہلے علاقہ میں ہی رہیں تو آہستہ آہستہ ان کی ہمدردی اپنے مشرقی بھائیوں سے کم ہو جائے گی اور سکھ انجمنیں ان کی امداد سے محروم رہ جائیں گی۔یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ مشرقی صوبہ کا دارالحکومت لازماً دہلی کے پاس بنایا جائے گا اور اس طرح امرتسر اپنی موجودہ حیثیت کو کھو بیٹھے گا۔اس وقت تو لاہور کے قریب ہونے کی وجہ سے جہاں کافی سکھ آبادی ہے امرتسر تجارتی طور پر ترقی کر رہا ہے لیکن اگر دارالحکومت مثلاً انبالہ چلا گیا تو انبالہ بوجہ امرتسر سے دور ہونے کے قدرتی طور پر اپنی تجارتی ضرورتوں کے لیے امرتسر کی جگہ دہلی کی طرف دیکھیے گا اور لاہور حکومت کے اختلاف کی وجہ سے امرتسر سے پہلے ہی بعدا ہو چکا ہو گا۔پھر امرت سر کی تجارت کا یہ حصہ اس مال کی وجہ سے ہے جو افغانستان بخارا اور کشمیر سے آتا ہے یہ مال بھی اپنے لئے نئے راستے تلاش کرے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امرتسر کی تجارتی حیثیت بہت گر جائے گی۔اور یہ شاندار شہر جلد ہی ایک تیسرے درجہ کا شہر بن جائے گا اگر مغربی پنجاب نے مشرقی پنجاب کی ڈگریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اٹھارہ لاکھ سکھ جو مغربی پنجاب میں بستے ہیں، ایک بڑا کالج مغربی پنجاب میں بنانے پر مجبور ہوں گے اور چونکہ بڑے زمیندار اور بڑے تاجو سیکھ مغربی پنجاب میں ہیں ، ان کے لئے ایک بہت بڑا کالج بنانا مشکل نہ ہوگا۔اس طرح خالصہ کالج امرت سر بھی اپنی شان کھو بیٹھے گا۔اور سکھوں کے اندر دو متوازی سکول اقتصادی اور سیاسی اور تمدنی فلسفوں کے پیدا ہو جائیں گے۔بے شک ساری قوموں کو ہی اس بٹوارہ سے نقصان ہو گا۔لیکن چونکہ ہندوؤں کی اکثریت ایک جگہ اور مسلمانوں کی اکثریت ایک جگہ جمع ہو جائے گی انہیں یہ نقصان نہ پہنچے گا۔یہ نقصان صرف سکھوں کو پہنچے گا جو قریباً برابر تعداد میں دونوں علاقوں میں بٹ بھائیں گے اور دونوں میں سے کوئی حصہ اپنی بڑائی کو دو سیر حصہ پر قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا۔کہا جاتا ہے کہ آبادی کے تبادلہ سے یہ مشکل عمل کی جا سکے گی لیکن یہ درست نہیں۔لائل پور ، لاہور، منٹگمری ، شیخو پورہ، گوجرانوالہ اور سرگودھا کے سکھ اپنی نہری زمینوں کو چھوڑ کر بارانی زمینوں کو لینے کے لئے کب تیار ہوں گے۔اور اگر وہ اس پر راضی ہو گئے تو مالی لحاظ سے یہ ان کے لئے بڑا اقتصادی دھکا ہوگا جس کی وجہ سے قومی الخطاط شروع ہو جائے گا۔